بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ایرانی بارڈر بندش کے خلاف گذشتہ پانچ دنوں سے جاری احتجاج کے بعدپاکستان کی عسکری حکام اور سول انتظامیہ نے عبدوئی بارڈر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق کیچ کے تمام اسٹیک ہولڈرز بارڈرکمیٹیوں، آل پارٹیز، انجمن تاجران، سول سوسائٹیز،رابطہ کمیٹی، جماعت اسلامی سے مشاورت کے بعد باہمی اتفاق رائے سے یہ فیصلہ ہوا ہے کہ عبدوئی بارڈر کھول کر ابتدائی طورپر ٹرائل کے تحت پچاس گاڑیوں کو بارڈر پر بھیجا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر کیچ متعلقہ ایرانی حکام سے بات چیت کریں گے یہ حکام وہاں ایرانی سپلائرز سے بات چیت کریں گے جس سے بارڈر معاملات مزید بہتری کی جانب جائیں گے اورمنڈی ودیگر ضروری اور بنیادی کاروبار شروع کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
جس دن یہ تمام اسٹیک ہولڈرز فیصلہ کریں گے کہ پچاس گاڑیوں کی لسٹ جاری کریں، انتظامیہ اسی دن لسٹ جاری کردی جائے گی۔ جس دن اسٹیک ہولڈرز فیصلہ کریں گے، تیل کی ترسیل کا سلسلہ معمول کے مطابق شروع ہوگا تو اسی دن 600گاڑیوں کانوبت لسٹ جاری کردیاجائے گا،عوام اطمینان رکھیں اور انتظامیہ پر بھروسہ رکھیں۔
واضع رہے کہ بارڈر بندش کے خلاف گذشتہ پانچ دنوں سے جاری احتجاجی دھرنے پر آج کریک ڈائون کیا گیا جس میں درجنوں کی تعداد میں گرفتار کرکے تھری ایم پی او تحت جیل بھیج دیا گیا۔
کریک ڈائون کے دوران نہتے مظاہرین پر لاٹھی چارج کی گئی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا جس سے متعدد افراد زخمی بھی ہوگئے ۔
واقعہ کے ردعمل میں ضلع بھر میں شٹرڈائون ہڑتال کی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے نکلے اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔