بلوچستان کے ضلع مستونگ میں واقع گرلز پبلک لائبریری کو گزشتہ روز نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا۔
حملہ آوروں نے لائبریری میں توڑ پھوڑ کی اور وہاں موجود سولر انورٹر سمیت دیگر سامان چوری کر لیا۔
چند روز قبل شہید چیئرمین منظور بلوچ پبلک لائبریری میں بھی اسی نوعیت کی چوری کی واردات پیش آئی تھی، جس سے بلوچستان بھر میں لائبریریوں کو حملوں کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے۔
ادبی و طلبا حلقوں کے مطابق حالیہ برسوں میں بلوچستان میں کتاب پڑھنے کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کا اعتراف پاکستان کے بڑے اشاعتی ادارے بھی کر رہے ہیں۔ تاہم دوسری جانب ریاست مخالف مواد کی اشاعت کے تدارک کے نام پر بلوچستان میں کتابوں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں ایسی کوئی بندش نہیں ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک) ہر سال "کتاب کاروان” کے نام سے بلوچستان بھر میں تعلیم و تربیت اور علم و آگہی کے فروغ کے لیے بک اسٹالز کا انعقاد کرتی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں ریاستی اداروں کی جانب سے سخت ہراسانی کا سامنا ہے اور ماضی میں متعدد طلبا و منتظمین کو کتابوں سمیت گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
ادبی و سماجی حلقوں نے لائبریریوں پر حملوں اور کتابوں پر پابندیوں کو بلوچستان میں علم و آگہی کے فروغ کے خلاف ایک منظم رکاوٹ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لائبریریوں اور علمی سرگرمیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔