بلوچستان سے پاکستانی سیکورٹی فورسزکے ہاتھوں مزید 2 خواتین کی جبری گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ خاران سے ایک نعش برآمدہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات پاکستانی فورسز نے کیچ کے علاقے تجابان میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں موجود زبیدہ بلوچ زوجہ حاجی بدل اور ان کی بہو زرناز زوجہ دولت کو گھر سے گھسیٹ کر اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔
کہا جارہا ہے کہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے دونوں خواتین، 18 فروری کو قتل ہونے والے دولت ولد حاجی بدل کی والدہ اور بیوہ ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق حاجی بدل کو پاکستانی فورسز کی پشت پناہی میں کام کرنے والے مسلح گروہ، جنہیں مقامی طور پر ڈیتھ اسکواڈز کے نام سے جانا جاتا ہے نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، گذشتہ شب ان کی والدہ اور بیوہ کو پاکستانی فورسز نے لاپتہ کردیا ہے۔
بلوچستان میں اب تک ایک سال کے دوران 16 سے زائد خواتین جبری گمشدگی کا نشانہ بن چکی ہیں، جن میں بعد ازاں چند منظرِ عام پر آکر بازیاب ہوگئیں، تاہم بیشتر تاحال ریاستی فورسز کی تحویل میں ہیں، جن میں گزشتہ سال جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی ماہ جبین بلوچ، نصرین بلوچ، حیرنساء و دیگر شامل ہیں۔
دوسری جانب خاران کے سب تحصیل پتکن کے علاقے سے ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے، جسے شناخت کے لیے شیخ زید ہسپتال خاران منتقل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے مراحل مکمل کرنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔