بابُل ملک کی جبری گمشدگی انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے، بی ایس اے سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مخدوش حالات دن بہ دن مزید تشویشناک صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ یہاں ایک جانب تعلیمی نظام مفلوج ہوکر رہ گیا ہے، تو دوسری جانب تعلیمی اداروں سے طلبہ کی جبری گمشدگی اور ہراسانی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ اداروں سے بلوچ طلبہ اور سیاسی کارکنان کا لاپتہ کیا جانا ایک تعلیم دشمن عمل اور لمحہ فکریہ ہے۔ کسی بھی ذی شعور انسان کے لیے یہ بات قابلِ قبول نہیں کہ تعلیمی ادارے اس طرح غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہو جائیں کہ بلوچ والدین کو اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے بھیجنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا پڑے۔ حکومت ایک جانب شرحِ خواندگی بڑھانے کے لیے میڈیا پر مہم چلانے کے دعوے کرتی ہے، لیکن دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ طلبہ کے لیے خود ان کے تعلیمی ادارے ہی غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق سیاسی حوالے سے فعال اور متحرک لوگوں اور طلبہ تنظیموں کے زمہ داروں کو ہراساں کرنا اور انہیں اس طرح تعلیمی اداروں سے لاپتہ کرنا انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ طلبہ تنظیمیں سماجی بہتری اور قومی اصلاح کے لئے سیاسی سرگرمیوں کا انعقاد کرتے ہیں۔تعلیمی بہتری اور شرحِ خواندگی میں اضافے کے لیے طلبہ تنظیمیں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں، جس کی واضح مثال خود بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے "بلوچ لٹریسی کیمپئین” کے تحت بلوچستان بھر میں آگاہی سیشنز کا انعقاد اور ڈیٹا کلیکشن جیسی سرگرمیاں ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے انہی سیاسی طور پر متحرک لوگوں اور طلبہ تنظیموں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور انہیں تعلیمی و فکری سرگرمیاں منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اسی سلسلے کی کڑی بی ایس او پجار کے وائس چیئرمین بابل ملک کی ایک تعلیمی ادارے کے ہاسٹل سے جبری گمشدگی ہے، جو کہ تشوشناک عمل ہے۔

بیان میں گیا کہ ہم بطورِ طلبہ تنظیم اس عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بلوچ طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے، سماجی بہتری اور اصلاح کے لئے شعوری تربیت سے دور رکھنے کی ایک سازش ہے۔ بلوچستان میں طلبہ کو جہاں ایک طرف مختلف تعلیمی اور انتظامی مسائل درپیش ہیں، وہیں دوسری جانب انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہم حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے باُبل ملک کو جلد از جلد رہا کرے اور تعلیمی اداروں میں درپیش مسائل کا ازالہ کرتے ہوئے بلوچ طلبہ کو پُرسکون ماحول میں تعلیم جاری رکھنے کا بنیادی حق فراہم کرے۔

Share This Article