بلوچ وومن فورم کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی وائس چیئرمین بابل ملک کو پولی ٹیکنیکل کالج کوئٹہ کے ہاسٹل سے رات کے وقت ریاستی اداروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے، جس کے بارے میں ان کے لواحقین اور تنظیمی ساتھیوں کو تاحال کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
ترجمان کے مطابق بلوچ وومن فورم سمجھتی ہے کہ کسی بھی شہری کو آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق، خصوصاً شخصی آزادی، منصفانہ قانونی کارروائی اور اظہارِ رائے کی آزادی سے محروم کرنا قابلِ تشویش امر ہے۔ تنظیم اس عمل کو آئین کے تقاضوں کے منافی قرار دیتی ہے کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات کریں اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ وومن فورم مطالبہ کرتی ہے کہ بابل ملک کی فوری اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ مزید برآں، تنظیم اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا بھی مطالبہ کرتی ہے تاکہ بلوچ عوام اور سیاسی کارکنان میں پائی جانے والی بے چینی اور خوف کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا جا سکے۔