خدیجہ بلوچ کی گرفتاری:تربت میں سی پیک روڈ پر جاری دھرنا مذاکرات کے بعد ختم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک میں نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف اہلخانہ نے آج بروزبدھ کو سی پیک روڈ پر دھرنا دیکر اسے ہر قسم کی ٹریفک کے بند کردیا تھا۔

بعد ازاں ضلعی انتظامیہ کی مداخلت پر مذاکرات کا آغاز ہوا۔

یاسر اقبال دشتی (ڈپٹی کمشنر کیچ) اور ذوہیب محسن (ڈی پی او کیچ) کی ثالثی میں علاقائی معتبرین مجید شاہ ایڈووکیٹ، کہدا خان محمد، میجر سلام اور ایس ایچ او عبدالصمد نے فریقین کے درمیان بات چیت کرائی۔

مذاکرات کے نتیجے میں معاملہ عارضی طور پر حل ہو گیا اور دھرنا ختم کر کے سی پیک روڈ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے خدیجہ پیر محمد سے متعلق ڈیٹینشن آرڈر اہلِ خانہ کے حوالے کیا۔

اہلِ خانہ نے ضلعی انتظامیہ اور مقامی معتبرین کو مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خدیجہ پیر محمد کی جلد رہائی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، جس پر حکام کی جانب سے یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ میں بولان میڈیکل کمپلیکس (BMC) کے سامنے دھرنا آج آٹھویں روز بھی جاری رہی ، جہاں خدیجہ بلوچ کی بازیابی کے مطالبے پر اہلِ خانہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد اہلِ خانہ شدید ذہنی و جذباتی اذیت میں مبتلا ہیں، اور ریاستی اداروں کی خاموشی نے ان کے دکھ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

بی وائی سی نے کہا کہ یہ احتجاجی اقدام اہلِ خانہ کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور ریاستی اداروں کی مسلسل بے حسی کا مظہر ہے۔

اہلِ خانہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ خدیجہ بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے یا انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔

بی وائی سی کے مطابق "کتنی دیر تک خاندانوں کو سڑکوں پر نکل کر اپنے بنیادی قانونی حقوق کے لیے فریاد کرنی پڑے گی؟”

بی وائی سی نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور تاخیر کے بغیر کارروائی کریں۔

Share This Article