بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں مادرِ وطن کی دفاع میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ساتھی سرمچاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ قومی جنگِ آزادی میں شہادت نوش فرمانے والے ساتھی سرمچاروں لیفٹننٹ سلمان وحیدہ، اکرام بلوچ، کیپٹن شہباز شوہاز، مسعود بلوچ، عزت بلوچ اور حمزہ بلوچ کو خراجِ عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ شہید ساتھیوں نے سروں کا نزرانہ دے کر خون کے آخری قطرے تک قوم اور وطن کی دفاع کا اپنا عہد اور قومی فرض نبھاتے ہوئے امر ہوئے ۔ شہداء نے اپنے عظیم قربانی سے ثابت کردیا کہ بلوچ سرمچار اپنے قوم اور وطن کی دفاع میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔
شہید لیفٹننٹ سلمان عرف شکاری چراگ جان ابنِ وحیدہ ساکن زامران سال 2023 میں بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے قومی آزادی کی جنگ میں شامل ہوئے۔ اس قلیل مدت میں آپ نے زامران، کلبر، مزن بند، بلیدہ، پروم اور مند کی جنگی محاذوں پر قابض دشمن کے خلاف فوجی مہمات میں بہادری اور مخلصی سے گراں قدر قومی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ گزشتہ سال مند کے علاقے دریا چم میں ایک کاروائی کے دوران قابض دشمن کی کیمپ کو قبضہ کرنے میں، جس میں دشمن فوج کے گیارہ (11) اہلکار ہلاک ہوئے تھے، شہید لیفٹننٹ سلمان کا ایک اہم کردار تھا۔ آپ ایک انتہائی محنتی، ذمہ دار، باہنر اور ماہر نشانہ باز سرمچار تھے۔ آپ اسنائپر ٹیکٹیکل ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ ناخواندہ ہونے کے باوجود آپ چیزوں کو آسانی سے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ شہید سلمان وحیدہ 16 اپریل 2026 کو زامران، دشتک کے علاقے میں دشمن کے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔
شہید اِکرام بلوچ عرف حمید ولد رحیم بخش ساکنِ عمری کہن، سامی نے سال 2017 میں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کیا۔ آپ نے جنگِ آزادی میں شاپُک، سامی، ہیرونک، ہوشاب، بالگتر، بلیدہ، پروم اور زامران کے محاذوں پر انتہائی دلیری اور جان فِشانی سے قومی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بالگتر میں دشمن کی کیمپ پر دو مرتبہ قبضہ کرنے کے معرکوں میں آپ سرمچاروں کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ آپ احساسِ ذمہ داری سے واقف، ایک انتہائی بہادر، محنتی اور باشعور سرمچار تھے جس نے اپنے آپ کو بلوچ قوم کی آزادی اور بہتر مستقبل کے لیے وقف کردیا تھا۔ شہید اِکرام بلوچ عرف حمید 16 اپریل 2026 کو زامران، دشتک کے علاقے میں دشمن کے فضائی حملے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید کیپٹن شہباز شوہاز عرف کیا بلوچ ولد عبدالمجید ساکن غریب آباد کا بنیادی تعلق گر، پنجگور سے تھا۔ آپ نے سال 2020 میں بی ایل ایف میں شامل ہوکر قومی جد و جہد کا آغاز کیا۔ شروع کے تین سال آپ شہری گوریلہ کی حیثیت سے شہری نیٹورک کے ذمہ دار رہے۔ تین سال تک دشمن کے درمیان رہ کر انتہائی گوریلہ محارت سے آپ دشمن کو کاری ضرف لگاتے رہے، اور سال 2023 میں پہاڑی محاذ پر منتقل ہوگئے۔ پہاڑی محاذ پر بھی آپ کو کیمپ کمانڈر کی حیثیت سے جنگی اور انتظامی ذمہ داریاں سپرد کی گئیں جن کو آپ اپنے شہادت تک حوصلہ، برداشت اور خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے رہے۔ آپ نہ صرف ایک ماہر گوریلہ کمانڈر تھے بلکہ بلوچی زبان کے ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ شہید شہباز قابض فوج کے ایک بزدل اور مکارانہ چال میں دشمن کے ایک خفیہ دلال کے ہاتھوں 15 اپریل 2026 کو شہید ہوئے۔
شہید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
شہید مسعود بلوچ عرف بارگ ولد ذاکر، ساکن عومری کہن سامی کا رہائشی تھا۔ آپ چھ مہینے تک بی ایل ایف کے شہری نیٹورک کا حصہ رہے جہاں آپ کے ذمہ داریوں میں مشکوک عناصر اور حساس مقامات کی نگرانی، رپورٹنگ اور ساتھیوں کے لیے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا شامل تھا۔آپ تنظیم کی طرف سے دی گئی اپنے قومی فرائض کو انتہائی ذمہ داری سے نبھاتے رہے، اور ہر ٹاسک کو خوش اسلوبی سے بروقت سرانجام دیتے تھے۔ شہید مسعود 19 فروری 2026 کو ساتھیوں کے ساتھ تنظیمی کیمپ کی طرف جاتے ہوئے عومری کہن میں دشمن فوج کی طرف سے کواڈ کاپٹر حملے میں شہید ہوئے جبکہ ان کا ساتھی سرمچار (شہید) اِکرام اس حملے میں زخمی ہوئے تھے۔
ساتھی سرمچار عزت عرف جُمی ولد ماسٹر نور اور حمزہ عرف وحید ولد ناکو فیض سکنہ تمپ، دازین، ڈیتھ اسکواڈ کی کارندوں کے ایک حملے میں شہید ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کی سرپرستی میں تحریک آزادی کے خلاف سرگرم کرایہ کے قاتل مسلح جتھہ (ڈیتھ اسکواڈ ) کے کارندوں نے یکم جنوری 2026 کو فائرنگ کر کے آپ دونوں سرمچاروں کو شہید کر دیا۔
شہید سرمچار عزت عرف جُمی نے 2013 میں بلوچستان کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا انتخاب بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے کیا۔ تین سال تک انہوں نے شہری محاذ پر انتھک محنت اور بے لوث لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ بعد ازاں دشمن کے انٹیلیجنس کی نظر میں آنے کے باعث تنظیم نے انہیں کیمپ منتقل کیا، جہاں انہوں نے مختلف محاذوں پر محنت اور لگن سے اپنی قومی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں اور دشمن کےخلاف کئی اہم معرکوں میں شریک رہا۔ شہید عزت نے اپنے قومی اور تنظیمی فرائض کو ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ انجام دے کر تاریخ میں اپنا نام امر کر دیا۔ شہید عزت کے علاوہ انکے خاندان کے متعدد ارکان نے بھی قومی آزادی کے لیے قربانیاں دے کر تاریخ میں باوقار مقام حاصل کرلیا ہے۔
ساتھی سرمچار حمزہ عرف وحید بلوچ نے قومی آزادی کی جدوجہد کے لیے 2009 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ آپ نے تنظیم کی طرف سے سونپی گئی ہر ذمہ داری کو انتھک محنت اور خلوص سے انجام دیں۔ آپ اور آپ کے خاندان کی قربانیوں نے تحریک اور تنظیم کو استحکام بخشا۔ آپ کی قربانیاں ہمیشہ بلوچ قومی یادداشت کا حصہ رہیں گی۔ شہید عزت عرف جمی اور شہید حمزہ عرف وحید نے گوادر، دشت، تمپ، تربت اور مند سمیت کئی علاقوں میں فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا، جہاں انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر متعدد فوجی کیمپوں پر قبضے اور قافلوں پر حملے کیے۔
بیان میں کہا گیا کہ آخر میں بی ایل ایف تمام شہید ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کو دہراتی ہے کہ شہداء کی مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے تک قابض ریاست کے خلاف یہ جنگ مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔