تربت : بارڈربندش دھرنا مظاہرین پر کریک ڈائون ، متعدد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ایرانی بارڈر بندش کیخلاف گزشتہ 5 روز سے ڈی بلوچ ایم ایٹ سی پیک شاہرہ پرجاری احتجاجی دھرنے پر ریاست نے رات گئے کریک ڈاؤن کرکے متعدد افراد کو گرفتار و لاپتہ کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی فورسز نے رات گئے دھرنا گاہ پر حملہ کرکے مظاہرین پر لاٹھی چارج کی اور آنسو گیس کے شیل پھینکے جبکہ فائرنگ بھی کی۔

مظاہرین کاکہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ کیچ، تحصیل تربت کے علاقے عبدوئی میں گزشتہ پانچ روز سے بارڈر بندش کے خلاف پُرامن دھرنا جاری تھا، جہاں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ عوام سڑکوں پر شدید گرمی اور سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود صرف ایک سادہ، جائز اور آئینی مطالبہ کر رہے تھے ، عبدوئی بارڈر کو کھولا جائے اور انہیں باعزت و باوقار روزگار کا حق دیا جائے، جو کہ ریاستی آئین ان کو فراہم کرتا ہے۔

لیکن افسوس، رات کے اندھیرے میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے پرامن احتجاجی دھرنے پر بزدلانہ انداز میں حملہ کیا۔کل رات 2 بجے مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس، اسٹریٹ فائرنگ اور گرفتاریاں کی گئیں۔ یہ ظلم اور کھلی دہشتگردی ہے۔ اگر ضلعی انتظامیہ کا یہ اقدام آئینی اور قانونی تھا تو دن کی روشنی میں کیا جاتا — رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح حملہ کرنا واضح کرتا ہے کہ انہیں اپنی حرکتوں پر خود بھی اعتماد نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب ضلعی انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر (جو کہ قانونی طور پر ضلع کا چیف ایگزیکٹو ہے) عوامی مسائل کے حل کا اختیار نہیں رکھتے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اختیارات کس کے پاس ہیں؟ جواب واضح ہے — مقتدر قوتیں نہ صرف ان کے اختیارات پر قابض ہیں بلکہ ضلعی سطح پر لیویز اور پولیس کو غریب عوام پر جبر کا ہتھیار بنا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو بھی شہری آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن، سیاسی اور جمہوری انداز میں اپنے بنیادی حقوق کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرتا ہے، اسے سننے یا اس کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے ریاستی طاقت کے ذریعے دبایا جاتا ہے۔ یہ کوئی نیا رویہ نہیں بلکہ برسوں سے بلوچستان اور دیگر محکوم اقوام کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا گیا ہے۔

مظاہرین نے مزید کہا کہ ہم حق دو تحریک بلوچستان کیچ کے ضلعی آرگنائزر صادق فتح سمیت دیگر مظلوم مزدوروں اور گاڑی مالکان پر بی رحمانہ تشدد گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچستان میں عملی طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، آئین معطل ہو چکا ہے، اور مارشل لا جیسی صورت حال رائج ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ یاد رکھا جائے کہ آئین پاکستان ہر شہری کو پُرامن احتجاج، دھرنے اور آزادی اظہار کا حق دیتا ہے۔ اگر ان آئینی حقوق کو سلب کیا گیا تو یہ ملک مزید انتشار اور بدامنی کی طرف جائے گا۔ مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ بات چیت، انصاف اور آئینی طریقہ کار میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کے شرکاء کا مطالبہ سیدھا سادہ ہے۔بارڈر کو سابقہ پوائنٹ پر کھولا جائے۔ ایرانی سپلائرز کی طرف سے تیل کی ترسیل جاری رکھی جائے۔ لیکن یہاں سیکیورٹی فورسز نے بارڈر کے سامنے ایک نئی بھاڑ (چیک پوسٹ) قائم کر کے ایرانی گاڑیوں سے بھتہ وصولی کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس پر ایرانی حکام نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ سلسلہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی اداروں کو عوام کے جان و مال کی حفاظت یا ملکی استحکام سے کوئی سروکار نہیں۔ ملک میں ایک غنڈہ راج مسلط ہے، جہاں جنرلوں نے اپنے مفادات کے تحفظ میں ریاستی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے۔ یہ جنرلز ریٹائرمنٹ کے بعد اس ملک میں رہنے کو تیار نہیں بلکہ ناجائز کمائی سے بیرون ملک جزیرے خرید رہے ہیں۔

مظاہرین نے مزید کہا کہ بلوچستان میں نسل کشی، وسائل کی لوٹ مار اور عوام کے ساتھ ظلم و جبر جاری ہے۔ سونے، چاندی اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان کا باسی آج دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے سڑکوں پر بیٹھا ہے، اپنے حقِ زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے۔

آخر میں دھرنا مظاہرین نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور اس کی مقتدرہ قوتیں ‘فتنہ ہندوستان’ کا ڈرامہ رچاتی ہیں، جبکہ اصل فتنہ یہاں ‘جنرستان’ کا ہے۔

  1. ڈی بلوچ دھرنے کے تمام پُرامن مظاہرین، سیاسی کارکنوں اور مزدوروں کو فی الفور رہا کیا جائے؛
  2. عبدوئی بارڈر کو سابقہ پوائنٹ پر کھول کر لوگوں کو باعزت روزگار کرنے دیا جائے؛
  3. غیر آئینی بھاڑ ختم کی جائے اور بھتہ وصولی کا سلسلہ بند کیا جائے؛
  4. آئینی و قانونی حقوق کو مکمل طور پر تسلیم کیا جائے؛
  5. علاقے کے منتخب نمائندے، جو ان مظالم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اپنی ذمے داری قبول کریں — کیونکہ ان کی خاموشی بھی ظلم میں شراکت داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت جبر و جارحیت کے ذریعے دیرپا حکمرانی نہیں کر سکی۔ طاقت کے بجائے انصاف اور احترام کے راستے سے ہی امن ممکن ہے۔

Share This Article