بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور ڈیرہ غازی خان سے پاکستانی سیکورٹی فورسز اور خفیہ اداروں نے بی ایس او چیئرمین اور سابق آرمی اہلکار سمیت 4 افراد کو جبری لاپتہ کردیا ہے۔
کوئٹہ سے اطلاعات ہیں کہ سیکورٹی فورسز نے بی ایس او پجار کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) نے ان کی گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ مرکزی سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ کی پولی ٹیکنک کالج ہاسٹل سے جبری گمشدگی قابلِ مذمت اور انتہائی تشویشناک عمل ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ رات پولی ٹیکنک کالج کے ہاسٹل سے ایک پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والے طلبہ رہنما کو لاپتہ کرنا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ اس عمل سے پرامن تعلیمی ماحول میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے اور بلوچستان کے تعلیمی عمل کو متاثر کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش محسوس ہوتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بابل ملک بلوچ ایک پرامن سیاسی کارکن ہیں، جو طلبہ کے تعلیمی و جمہوری حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل رہے ہیں۔ ان کی اس طرح گرفتاری اور لاپتہ کرنا آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، قانونی طریقہ کار اپنایا جائے اور آئینِ پاکستان کے تحت کارروائی کی جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) ایک جمہوری و سیاسی طلبہ تنظیم ہے، جو فکری طور پر نیشنل پارٹی سے وابستہ ہے، اور ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور شفاف عدالتی نظام پر یقین رکھتی ہے۔ بی ایس او پجار نے ہمیشہ ملک میں جمہوری عمل کی حوصلہ افزائی کی ہے اور طلبہ کے تعلیمی، جمہوری اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔
تنظیم کا مؤقف رہا ہے کہ نوجوانوں کو ماورائے آئین لاپتہ کرنے سے بلوچستان میں بدامنی اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کے بجائے انہیں آئین اور قانون کے مطابق الزامات کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کیا جائے اور ان کے خاندانوں کو اذیت سے دوچار نہ کیا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ ریاستی ادارے ماورائے آئین و قانون اقدامات سے گریز کریں اور فوری طور پر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ کو رہا کیا جائے۔
مرکزی ترجمان نے انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ایسے واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے شادان لُنڈ میں واقع فوجی سیمنٹ فیکٹری سے ایک سیکیورٹی گارڈ کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت دوست محمد کے نام سے ہوئی ہے، جو پاکستانی فوج سے ریٹائرڈ تھے اور اس وقت فوجی سیمنٹ فیکٹری میں بطور سیکیورٹی گارڈ فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ دوست محمد کا تعلق تونسہ شریف، ڈیرہ غازی خان سے بتایا جاتا ہے اور ان کی عمر تقریباً 45 سال ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دوست محمد کو 23 اپریل 2026 کو شام تقریباً 5:30 بجے فیکٹری کے احاطے سے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
اہل خانہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دوست محمد کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے یا ان کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
اسی طرح کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی، قمبرانی روڈ سے2 نوجوان طالب علموں کو 24 اپریل 2026 کی رات گئے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سراج قمبرانی، ولد غنی قمبرانی، عمر 20 سال، اور لال خان قمبرانی، ولد جعفر خان قمبرانی، عمر 22 سال، جو کہ طالب علم ہیں اور کلی قمبرانی کے رہائشی ہیں، کو رات تقریباً 11:00 بجے ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق اس واقعے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکار ملوث ہیں۔ دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے بعد اب تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور متعدد خاندان اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔