بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بدھ کی شب نامعلوم سمت سے فائر کیے گئے متعدد راکٹ مختلف علاقوں میں گرنے کے بعد شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ۔
راکٹ حملوں کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ گھروں کی چھتوں، سولر سسٹمز اور ایک ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا۔
دھماکوں کی آوازوں سے شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس کے مطابق راکٹ اختر محمد روڈ، شانتی نگر، میر احمد خان روڈ، نیو فقیر محمد روڈ، عثمانیہ گلی اور سرکی روڈ کے قریب گرے۔
میر احمد خان روڈ پر ٹرانسفارمر سے ٹکرانے والے راکٹ کے پھٹنے سے تین افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
عثمانیہ گلی کے رہائشی ملک سہیل خان نے بتایا کہ ایک راکٹ ان کے گھر کے قریب ایک چھت پر آکر گرا جس سے زور دار دھماکہ ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مصعب خان کاسی کے مطابق دھماکے کے وقت وہ مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے اور آواز اتنی شدید تھی کہ لوگ خوفزدہ ہو گئے۔
شانتی نگر میں بھی ایک گھر کی چھت کو خاصا نقصان پہنچا۔
واقعے کے بعد پولیس، ایف سی اور سی ٹی ڈی نے مختلف علاقوں میں مشترکہ سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت کے مطابق مشتبہ مقامات کی چیکنگ جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا کہ شہر میں حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور عوام کو مطمئن رہنا چاہیے۔
ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز پوری طرح متحرک ہیں اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
تاحال ان حملوں کی ذمہ داری کسی مسلح تنظیم نے قبول نہیں کی۔
حالیہ ہفتوں میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے کارروائیوں کا رخ شہروں کی جانب موڑ دیا ہے۔
گزشتہ ماہ اور اس سے قبل مختلف واقعات میں مسلح جنگجوؤں نے کوئٹہ سمیت کئی علاقوں میں گھنٹوں تک کنٹرول سنبھالے رکھا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز کو اپنی بیرکوں تک محدود رہنا پڑا۔
اب بلوچستان بھر میں شاہراہوں پر ناکہ بندی، اسنیپ چیکنگ اور مسلح گشت آزادی پسند مسلح تنظیموں کا معمول بنتا جا رہا ہے۔