بلوچستان کے ضلع کیچ کے ڈپٹی کمشنر بشیر احمد بڑیچ اور ایس پی کیچ زوہیب محسن نے کہاہے کہ ڈی بلوچ دھرنا پر کریک ڈاؤن مجبوری میں کیاگیا، خوشگوار اور پرامن انداز میں احتجاج ختم کرانے کی تمام تر کوششوں کی ناکامی کے بعد منفی وسیاسی عزائم رکھنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرکے 14افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید 5افراد مطلوب ہیں جنہیں جلد گرفتارکرلیاجائے گا۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کے روز اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کیچ مقبول انور رند، اسسٹنٹ کمشنرتربت محمد جان بلوچ بھی موجودتھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بارڈر معاملات کو جواز بناکر غیرقانونی طورپر اہم شاہراہ کو 5دنوں تک بلاک کردیاگیا تھا جس سے شہریوں اور تاجروں کو شدیدپریشانیوں اورنقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے احتجاجی دھرنا کو پرامن انداز میں ختم کرانے کیلئے دھرنا منتظمین کے ساتھ کئی بار براہ راست مذاکرات کئے اور اسٹیک ہولڈرز کے ذریعے بھی کوششیں کیں، قابل عمل تجاویز پیش کی گئیں جنہیں تاجران، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹیز نے مثبت سراہا مگر دھرنا پر بیٹھا ایک مخصوص گروہ انتظامیہ کی تمام ترمخلصانہ اور سنجیدہ کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی رہی اس گروہ کا ایجنڈہ بارڈر کے نام پر احتجاج کی آڑ میں غریب گاڑی مالکان کو ڈھال بناکر خود کو سیاسی طورپر زندہ رکھنا تھا یہی وجہ ہے کہ یہ مخصوص گروہ ہر بار مذاکرات اور سنجیدہ کوشش کی راہ میں رکاوٹ بنتی رہی۔
ڈی سی کیچ نے کہاکہ ہمیں اپنے عوام اور کاروباری لوگوں کی مشکلات وپریشانیوں کا مکمل ادراک ہے ہماری طرف سے بارڈر کے حوالے سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ہماری طرف سے عید سے قبل باقاعدہ بارڈر کھول کر نوبت لسٹ جاری کردی گئی تھی تاہم بارڈر پرکچھ انتظامی معاملات کی تبدیلی کے پیش نظر ایرانی گاڑیوں نے مجوزہ سائیٹ پر آنے سے انکار کیا تھا جس سے یہ بارڈر سرگرمیاں تعطل کا شکارہوگئیں اس دوران انتظامیہ کی ہرممکن کوشش اور خواہش رہی کہ جلد سے جلد بارڈر پر معاملات کو طے کرکے کاروبار بحال ہو، اس لئے ہم نے تجویز دی کہ اگر ایرانی گاڑی مالکان سابقہ پوزیشن پر آنے کو تیارہوں تو ہم تیار ہیں، آج ہی لسٹ شائع کردی جائے گی، اس سلسلے میں بارڈر اسٹیک ہولڈرز اور تاجربرادری کو ایک متفقہ وفد بارڈر پر بھیج کر معاملات کو طے کرنے کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران انٹرنیشنل بارڈر ہے جس کے کچھ پروٹوکولز ہوتے ہیں انٹرنیشنل بارڈر پر ہر شخص کو کاروبارکے نام پر آمدورفت کی اجازت نہیں دی جاسکتی تاہم اس کے باوجود ہم نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ دونوں اطراف کی گاڑیاں اپنی حدود میں رہیں اور افراد وہاں جاکر اپنا سودا طے کرکے واپس آکر تیل بذریعہ پائپ لائن حاصل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ بارڈر پرپانی، سائبان ودیگر مسائل بیان کئے گئے جنہیں ہم نے جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر ہرممکن حدتک مسائل ومعاملات کے حل کی یقین دہانیوں کے باوجود ایک مخصوص سیاسی گروہ اپنے طے شدہ پلان کے تحت دھرنا کو ہائی جیک کرنے کی کوشش میں مصروف رہی اور اس نے یکم جولائی سے 10 جولائی تک ایک باقاعدہ احتجاجی شیڈول بھی جاری کردیا جس سے واضح ہوگیا کہ ان کے مقاصد سیاسی ہیں کاروباری نہیں، یہ گروہ معاملات کو حل کرنے کے بجائے طول دینے کی کوشش کررہی ہے اس گروہ کو عوام کی تکالیف، پریشانیوں اورمشکلات کا کچھ بھی احساس نہیں تھا، مسافر، مریض اذیت کا شکار تھے، راشن اور اشیاء خوردونوش کی سپلائی رک گئی تھی۔
ڈپٹی کمشنرکیچ بشیر احمد بڑیچ نے کہاکہ کاروباری لوگوں سے میٹنگ کرکے بارڈر معاملات پر غور کیاجائے گا اگر وہ کہیں تو کل ابتدائی طورپر100گاڑیاں بارڈرپر بھیج دی جائیں گی جنہیں صورتحال معمول پر آنے کے بعد مکمل نوبت لسٹ کے مطابق بھیجا جائے گا۔ہم تاجربرادری اور کاروباری لوگوں کے ساتھ ہرممکن تعاون کیلئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کچھ سرکاری ملازمین کے سڑک بلاک اور احتجاج میں ملوث ہونے کی اطلاع ملی ہے ایسے ملازمین کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت قانونی کاروائی کی جائے گی اور سرکاری ملازمین خود کو ایسے احتجاجوں سے دور رکھیں۔
ایس پی کیچ زوہیب محسن نے کہاکہ رات کے وقت ہم نے پرامن انداز میں دھرنا ختم کرنے کی کوشش کی ہم نے ان سے کہاکہ 5دن گزر چکے ہیں لوگ تکلیف ہیں وہ کئی دنوں سے سڑک پر پڑے ہیں اس لئے سڑک کوکھول کر انہیں جانے دیں اس کے بعد ان کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جس سے پولیس کے 5جوان زخمی ہوئے، پولیس نے مجبوراً کریک ڈاؤن کرکے 14افراد کو گرفتارکر لیا اورسڑک کو آمدورفت کیلئے بحال کردیا۔