آواران: مقتولین کے گھر پر فورسز کا دوبارہ چھاپہ،7 سالہ بچے کولے جانے کی کوشش ناکام

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے مالار مچی میں قتل ہونے والے نعیم بلوچ اور حوری بلوچ کے گھر پر پاکستانی فورسز نے دوبارہ چھاپہ مارااور ایک 7 سالہ بچے کو لے جانے کی کوشش کی جسے اہلخانہ نے مزاحمت سے ناکام بنادیا۔

واضع رہے کہ 27 مئی کی رات تقریباً دو بجے فورسز نے اسی ایک گھر پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران مردوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر اہلِ خانہ نے مزاحمت کی۔ اس مزاحمت کے جواب میں فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک نوجوان ہلاک جبکہ اور ایک خاتون زخمی ہو گئی۔

واقعے کے اگلے روز فورسز نے ایک بار پھر اسی گھر پر چھاپہ مارا اور سات سالہ بچے کو لے جانے کی کوشش کی تاہم اہلِ خانہ کی شدید مزاحمت کے باعث وہ بچے کو لے جانے میں ناکام رہے۔

مذکورہ واقعہ کے خلاف آج بلوچ وومن فورم کی کال پر پورے آواران میں شٹر ڈائون ہڑتال رہی ۔

بلوچستان بھر میں انسانی آبادیو ں میں فورسزکی بربریت انتہا کو پہنچ چکی ہے لیکن میڈیا بلیک آئوٹ کی وجہ سے فورسز کی تمام جنگی جرائم پر پردہ پڑی ہوئی ہے۔

Share This Article