آزاد بلوچستان میں پنجابی، ایک غیر نہیں بلکہ ایک بھائی | پھل جان خارانی

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

اگر آج بلوچستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہوتا، تو وہ دنیا کے سامنے ایک ایسی مثال قائم کرتا جہاں انسانیت اور برابری کو ہر شے پر فوقیت دی جاتی۔ ایک آزاد بلوچستان میں یہاں مقیم تمام پنجابیوں اور دیگر نسلی گروہوں کو اجنبی سمجھنے کے بجائے بلوچ اپنی روایتی مہمان نوازی اور غیرت کے ساتھ سینے سے لگاتے۔ بلوچ قوم انہیں بالکل اپنی طرح عزت دیتی، ان کے حقوق کا تحفظ کرتی اور ہر مشکل گھڑی میں ایک بھائی کی طرح اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھتی۔ ایک حقیقی آزاد معاشرے کی بنیاد ہی اس اصول پر ہوتی ہے کہ تمام انسان برابر ہیں، نہ کوئی کم ہے اور نہ ہی کوئی زیادہ۔ یہ برابری صرف کاغذوں تک محدود نہ ہوتی بلکہ گلی محلوں اور روزمرہ کی زندگی میں نظر آتی، جہاں ایک پنجابی خود کو اتنا ہی محفوظ اور معزز محسوس کرتا جتنا کہ ایک بلوچ۔ یہی وہ فکری آزادی اور سماجی انصاف ہے جو کسی بھی نو آموز ریاست کو دنیا کے نقشے پر ایک معتبر اور پرامن ملک کے طور پر مستحکم کرتا ہے، کیونکہ انصاف پر مبنی معاشرے ہی دیرپا ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں۔

اس روشن اور تصوراتی مستقبل کے برعکس، تلخ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 77 سالوں سے اس سرزمین کو ایک جبری تسلط اور قبضے کی کیفیت میں رکھا گیا ہے۔ یہاں کے باسیوں کو ان کے بنیادی انسانی، سیاسی اور معاشی حقوق سے دانستہ طور پر محروم رکھا جا رہا ہے تاکہ ان کی آواز کو دبایا جا سکے۔ ریاست کا رویہ یہاں کے عوام کے ساتھ ہمیشہ ایک سوتیلی ماں جیسا رہا ہے، جہاں اپنے جائز حقوق، اپنی شناخت اور اپنی مٹی کی حفاظت کے لیے آواز اٹھانے والے ہر شعور یافتہ بلوچ کو ‘دہشت گرد’ یا ‘شر پسند’ قرار دے کر دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مسلسل فوجی آپریشنز نے یہاں کے عام انسان کے دل میں بیگانگی اور بیزاری کے احساس کو اس حد تک گہرا کر دیا ہے کہ اب وہ خود کو اس موجودہ سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کا حصہ تسلیم کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہو چکا ہے۔ یہ بیگانگی کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ اس دہائیوں پر محیط تذلیل کا ردعمل ہے جو یہاں کے لوگوں نے اپنے ہی گھر میں غیر بن کر برداشت کی ہے۔

اس تمام تر کشیدگی، جبر اور ناانصافی کے باوجود، یہ ایک ایسی ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے جسے دنیا کا کوئی بھی مورخ جھٹلا نہیں سکتا کہ پاکستان کی معیشت اور بقا کو سہارا دینے میں بلوچستان کے قدرتی وسائل نے ہمیشہ ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا ہے۔ 1952 میں سوئی کے مقام سے نکلنے والی گیس سے لے کر ریکوڈک اور سیندک کے بیش قیمت سونے اور تانبے تک، اس سرزمین کے خزانوں نے ملک کے دور دراز علاقوں کے کارخانوں کو پہیہ فراہم کیا اور بڑے شہروں کے گھروں کو تپش اور روشنی بخشی۔ بلوچستان کی معدنیات نے ہمیشہ اس ریاستی ڈھانچے کو بکھرنے سے بچایا اور اسے وہ معاشی آکسیجن فراہم کی جس کے بغیر اس کا وجود برقرار رہنا ناممکن تھا۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ جس مٹی نے پورے ملک کی معیشت کا بوجھ اٹھایا، اسے ہمیشہ پسماندہ اور بنجر رکھا گیا تاکہ مرکز کا کنٹرول برقرار رہے۔ یہ وسائل بلوچ عوام کے لیے خوشحالی کا پیغام لانے کے بجائے ان کی نسلوں کے استحصال کا ذریعہ بنتے رہے، جو کسی بھی ترقی پسند سماج کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔

انتہائی بدقسمتی اور شرمناک بات یہ ہے کہ جن وسائل نے پورے ملک کی شاہراہوں اور صنعتوں کو روشن کیا، ان کے اصل وارثوں کے اپنے گھر آج بھی پتھر کے دور کا منظر پیش کر رہے ہیں اور اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے عوام کو ان کی اپنی مٹی کے خزانوں کے بدلے میں ترقی اور خوشحالی کے بجائے صرف پسماندگی، غربت، بھوک اور اپنوں کی لاشیں ملی ہیں۔ یہ معدنیات جنہیں مقامی آبادی کی زندگی بدلنے کا زینہ اور روشن مستقبل کا ذریعہ بننا تھا، یہاں کے لوگوں کے لیے ایک بوجھ بن گئیں کیونکہ ان کا فائدہ کبھی مقامی سطح پر نچلے طبقے تک منتقل ہی نہیں ہوا۔ تمام تر منافع، رائلٹی اور ثمرات ہمیشہ مرکز کی تجوریاں بھرنے اور اشرافیہ کے طرزِ زندگی کو بہتر بنانے کے کام آئے، جبکہ مقامی بلوچ اپنی ہی زمین پر وسائل سے محروم، بے یار و مددگار اور ایک اجنبی کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے۔ یہ معاشی ناانصافی ہی وہ بیج ہے جس نے آج نفرت اور علیحدگی کی فصل تیار کر دی ہے۔

ریاست کی جانب سے سیاسی مکالمے کے تمام دروازے بند کر کے صرف بارود اور طاقت کے استعمال کو ترجیح دینا وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے عوام اور وفاق کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مکمل طور پر ملیا میٹ کر دیا ہے۔ جب کسی زندہ قوم کو یہ احساس دلا دیا جائے کہ ریاست کی نظر میں ان کی اہمیت صرف ان کی زمین کے نیچے دبے سیندک اور ریکوڈک کے خزانوں تک محدود ہے اور ان کی انسانی جان، وقار اور مال کی کوئی قیمت نہیں، تو وہاں سے مزاحمت اور بغاوت جنم لیتی ہے۔ آج کا بلوچ نوجوان یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ اس کے وسائل کی منظم لوٹ مار اور اس کی آنے والی نسلوں کی تذلیل اس ریاستی نظام کا مستقل وطیرہ بن چکی ہے۔ اسی لیے اب وہ ذہنی، جذباتی اور شعوری طور پر اس نظام سے اتنا دور ہو چکا ہے کہ اب کوئی بھی لولی پاپ یا عارضی ریلیف اس کے زخموں کا مداوا نہیں کر سکتا۔ جب کسی قوم کا نوجوان اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر اتر آئے، تو اسے جبر سے خاموش کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

آج پاکستان جس شدید سیاسی عدم استحکام اور بدترین معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے، جسے بہت سے عالمی مبصرین ریاست کی ‘آخری سانسیں’ قرار دے رہے ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی دہائیوں پر محیط بے حقوقی اور استحصالی رویہ ہے۔ جب ایک ریاست اپنے ہی شہریوں کو دشمن سمجھ کر دیوار سے لگا دے اور انصاف کے تمام آئینی راستے بند کر دے، تو وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ساکھ کھو دیتی ہے۔ بلوچستان نے ہمیشہ اپنے وسائل سے اس ملک کو ٹوٹنے سے بچایا اور اسے سہارا دیا، لیکن آج اسی مظلوم سرزمین کی آہیں اور مسلسل ہونے والی ناانصافیاں اس پورے بوسیدہ نظام کے زوال کا سب سے بڑا سبب بن رہی ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ظلم، ناانصافی اور استحصال پر مبنی ڈھانچے چاہے کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، وہ کبھی بھی مستقل بنیادوں پر قائم نہیں رہ سکتے۔ وہ دن دور نہیں جب حق اور سچ کی آواز اس گھٹن زدہ ماحول کو چیر کر اپنا راستہ بنائے گی، کیونکہ حق چھیننے سے نہیں، بلکہ اس کے لیے کھڑے ہونے سے ملتا ہے۔

***

Share This Article