ایران میں جنگ کے بعد ملک بھر میں جاری کارروائیوں کے دوران مزید گرفتاریاں کی گئی ہیں اور انٹیلیجنس آپریشنز کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق وسطی تہران میں ایک رہائشی یونٹ سے ایک مبینہ جاسوسی اڈہ سامنے آیا ہے، جہاں اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ نصب تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اڈے کو مبینہ طور پر غیر ملکی انٹیلیجنس اداروں اور اپوزیشن میڈیا نیٹ ورکس کو معلومات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق دو روز قبل شمال مغربی تہران میں ایک کمپلیکس کے اندر تین تجارتی یونٹس کو غیر قانونی سیٹلائٹ انٹرنیٹ آلات کے استعمال کے الزام میں سیل کر دیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے ایک یونٹ مبینہ طور پر لگ بھگ 19 مرتبہ دشمن کو معلومات فراہم کر چکا تھا۔
دوسری جانب مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ صوبہ کرمان کے شہر انار میں پولیس نے ایک شخص کو اس الزام میں گرفتار کیا ہے کہ اس نے غیر ملکی میڈیا میں موجود مخالف عناصر سے رابطہ رکھا، جن کا مقصد امن و امان میں خلل ڈالنا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق صوبہ فارس کے شہر سروستان میں پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ حساس اور اہم مقامات سے پیغامات، تصاویر اور ویڈیوز مخالف نیٹ ورکس کے ساتھ شیئر کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ گرفتاری انٹیلیجنس کارروائیوں کے بعد عمل میں لائی گئی۔
ادھر ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے کہا ہے کہ ’وطن کے غداروں اور شرانگیز عناصر کا ساتھ دینے والوں‘ کے اثاثے ضبط کیے جائیں گے۔
انھوں نے بیرونِ ملک مقیم ان ایرانیوں سے بھی خطاب کیا جنھوں نے اب دشمن کے خلاف موقف اختیار کیا ہے۔
ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ وطن ان کے لیے ’کھلے بازوؤں ‘ کے ساتھ موجود ہے اور ان کی واپسی کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے صوبائی مرکز نے صوبہ زنجان میں اسلحہ برآمد اور ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق 28 اپریل کو آئی آر جی سی کے انصارالمہدی بیس نے خدابندہ شہر میں بسیج فورسز کی ایک چیک پوسٹ سے مختلف اقسام کے ٹیزر، آنسو گیس کے شیل، ہتھکڑیاں اور دھوئیں کے شیل برآمد کیے جبکہ ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا۔
آئی آر جی سی کے ایک بیان میں بعض دیگر کارروائیوں کے دوران چار افراد کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں میں کلاشنکوف رائفلیں، ہینڈ گنز، گولہ بارود، فوجی معیار کا دستی بم، جعلی شناختی دستاویزات اور اسٹارلنک سیٹلائٹ مواصلاتی آلات ضبط کیے۔
یاد رہے کہ ایرانی حکام ماضی میں بھی کرد مسلح گروہوں پر سرحدی صوبوں میں حملوں کی منصوبہ بندی یا ان پر عمل درآمد کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔