امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کے طویل محاصرے کے لیے تیاری کی ہدایت کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ اجلاسوں کے دوران یہ فیصلہ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں تک جانے والی اور وہاں سے آنے والی بحری آمد و رفت روک ایرانی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رکھا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا خیال ہے کہ دیگر آپشنز، جیسے دوبارہ بمباری شروع کرنا یا تنازع سے دستبردار ہونا، محاصرے کو برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ خطرات رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایک اور بیان میں ایران کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ’بہت اچھا جا رہا رہے۔‘
برطانوی بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا پارکر کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے اس مخصوص حریف کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔‘
وائٹ ہاؤس میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اس حریف (ایران) کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’چارلس بھی مجھ سے اتفاق کرتے ہیں۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ اور برطانیہ ہمیشہ ’کمیونزم، فاشزم اور جبر کی قوتوں کے خلاف‘ ڈٹ کر کھڑے رہے اور سرخرو ہوئے۔