کٹھ پتلی بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے حالیہ ایک اہم گرفتاری کے بعد تحقیقات کے دائرے کو وسیع کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ ٹارگٹ کلرز کے حوالے سے ایک خفیہ اطلاع ملی تھی جس کی بنیاد پر ایک سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے اور متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ۔
ترجمان کے مطابق ایک کارروائی کے دوران ضمیر احمد شاہوانی ایڈووکیٹ بھی دیگر مشتبہ افراد کے ہمراہ تحویل میں آئے تاہم ابتدائی تحقیقات کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قیام امن کے لئے سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں ۔
شاہد رند نے کہا کہ پہلے ہی واضح کیا جاچکا ہے کہ سیکورٹی فورسز "گرے ایریاز” میں آپریشنز کررہی ہیں جہاں دوست اور دشمن میں فرق کرنا ایک مشکل عمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائیدار قیام امن کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔
ترجمان بلوچستان حکومت نے واضح کیا کہ کسی بے قصور کے ساتھ ناحق نہیں ہوگا، جبکہ پوچھ گچھ اور تحقیقات ایک قانونی عمل کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان امن قائم رکھنے اور بلوچستان کو محفوظ بنانے کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔
واضع رہے کہ گذشتہ روز ایک پروفیسر کو حراست میں لیکر اسے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ۔بعد ازاں اسٹیبلشمنٹ کی پرانے وطیرے کے طور پر اس کا دوران حراست ایک ڈرامائی ویڈیو پہلے ریاستی پروپیگنڈہ سوشل میڈیا ہینڈل سے جاری کیا گیا اور پھر کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اسے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کودکھایاتھا۔