کوئٹہ و لیاری سے 2 نوجوان جبری لاپتہ ، حسیبہ قمبرانی کے بھائی بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کو ئٹہ اور لیاری سے پاکستانی فورسز 2 نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ کوئٹہ سے حسیبہ قمبرانی کے جبری لاپتہ بھائی بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔

کراچی کے بلوچ آبادی لیاری کے علاقے تولک لین سے فورسز نے ایک نوجوان کو طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

نوجوان کی شناخت ولید ولد عبدالمجید کے نام سے ہوگئی ہے جو پیشے کے لحاظ سے باورچی ہیں اور اسے 3 جنوری کو لاپتہ کیا گیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ولید کو ان کے گھر سے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

لیاری میں اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن پر انسانی حقوق کے ادارے شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب کوئٹہ میں بروری روڈ کے بلوچ کالونی سے فورسز نے ایک نوجوان کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ۔

نوجوان کی شناخت اسداللہ کرد ولد ظفر اللہ کرد کے نام سے ہوگئی ہے۔

اہلخانہ کا کہناہے کہ اسد اللہ ایک طالب علم ہے اور اسے 5 فروری کو سی ٹی ڈی اہلکاروں نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔

دریں اثنا حسیبہ قمبرانی کے بھائی محمد حسان قمبرانی بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں۔

حسان قمبرانی کو کوئٹہ میں کلی قمبرانی سے 22 جنوری کو فورسز نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا جوگذشتہ روز 6 فروری کو بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔

Share This Article