جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ جاری

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم پی کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6072 دن مکمل ہوگئے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کابینہ کے 22ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے انتہائی پُراعتماد انداز میں دعویٰ کیا کہ ’یکم فروری کے بعد بلوچستان سے مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔‘ جس کسی بھی شخص کو ملکی ادارے حراست میں لینگے، انہیں جبری لاپتہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بنائے گئے ایکٹ 2025 کے تحت انہیں حراستی مراکز میں رکھا جائے گا، اور ان کی لواحقین کا ان سے ملاقات کرایا جائے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان کا یہ بیان حقیقت کے برعکس ہے، 2 فروری کو بلوچ نشنل موومنٹ کے چیرمین ڈاکٹر نسیم کے والد محمد بخش ساجدی، چچا نعیم ساجدی اور ماموں رفیق بلوچ کو سیکورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے اسکائی بلیو، ھب چوکی میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، آج تک انہیں منظر عام پر لایا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خاندان کو ان کی خیریت کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جارہا ہیں، اسی طرح بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت کراچی سے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو حراست میں لیا گیا ہے، لیکن انہیں نہ کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خاندانوں کو معلومات فراہم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے دیے گئے حالیہ عوامی بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں یہ عندیہ دیا گیا کہ ریاست مخلف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے اہلِ خانہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، ایسے بیانات اجتماعی سزا کے سنگین خدشات کو جنم دیتے ہیں، جو کہ جبری گمشدگی کی طرح ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ملکی قوانین میں یہ چیز واضع لکھا ہوا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کے خاندان کے کسی بھی شخص کے عمل کی سزا دینا ایک ماورائے قانون اقدام تصور کیا جائے گا، اسلیے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں کو اب یہ سجمھنا ہوگا، کہ ماورائے قانون اقدامات اور اجتماعی سزا کے بنیاد پر شہریوں کے خلاف قانونی کاروائی سے بلوچستان کے حالات بہتر نہیں ہونگے، بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے ہی حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم ایک دفعہ پھر حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اجتماعی سزا کے بنیاد پر کسی بھی شخص کے خلاف قانونی کاروائی کی حوصلہ افزائی نہیں کریں، اور فوری طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں ان کے لواحقین کو معلومات فراہم کیا جائے، ان کی سلامتی یقینی بنائے، جبری لاپتہ افراد کی قانونی مشیروں تک رسائی کو ممکن بنایا جائے، جو بےقصور ہے انھیں رہا کیا جائے، اور ملکی اداروں کو اس چیز کا پابند کیا جائے کہ وہ جو بھی اقدام اٹھائیں، ملکی قوانین کے تحت اٹھائیں، اور ماورائے قانون اقدامات اٹھانے سے گریز کیا جائے، تاکہ بلوچستان کے حالات میں بہتری آئیں، اور اہل بلوچستان جو بےچینی پھیلی ہوئی ہے اسکا خاتمہ ہو۔

Share This Article