بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف)کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنےا یک بیان میں پنجگور اور قلات جھڑپ میں شہید سرمچاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچار تنظیم کے ایک خفیہ مشن کی انجام دہی کے لیے 25 جنوری 2026 کو پنجگور کے علاقے تسپ میں گئے تھے جہاں ایف سی کے اہلکاروں نے انہیں گھیرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں سرمچاروں اور ریاستی فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی آمنے سامنے جھڑپ شروع ہوئی۔ اس جھڑپ میں سرمچاروں نے غیر معمولی جرأت، حوصلے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور مشکل ترین حالات میں بھی پسپائی اختیار نہیں کی۔
انہو ں نے کہا کہ اس جھڑپ میں ایف سی کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے تنظیم کے تین سرمچار بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہید سرمچاروں نے آخری لمحے تک اپنے فرائض کی ادائیگی جاری رکھی اور آزادی کیلئے اپنے عزم، نظم و ضبط اور وابستگی کی عملی مثال قائم کی۔
بیان میں کہا گیا کہ تسپ جھڑپ میں شہید کیپٹن فاروق بلوچ عرف سہراب ولد محمد انور سکنہ پروم، پنجگور نے سال 2012 میں بی آر اے میں شمولیت سے تحریک سے وابستگی اختیار کیا۔ بعد ازاں 2015 میں انہوں نے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مختلف محاذوں پر ذمہ داریاں نبھائیں اور ہر میدان میں اپنی جنگی مہارت، تنظیمی نظم اور عسکری قابلیت کا عملی مظاہرہ کیا۔
تنظیم کے مطابق ان کی قائدانہ صلاحیت، عسکری قابلیت اور تدبر کو دیکھتے ہوئے تنظیم نے انہیں کیپٹن کے عہدے پر فائز کیا، جس پر وہ اپنے شہادت تک برقرار رہے۔ ان کی قربانی، نظم و ضبط اور غیر معمولی حوصلہ ساتھیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ کیپٹن فاروق بلوچ کا سفر ثابت قدمی، عزم اور مقصد سے بے لوث وابستگی کا ایک مینار ہے جس کی روشنی طویل عرصے تک تنظیم کی عملی سرگرمیوں اور مشنز میں سرمچاروں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ تسپ جھڑپ میں شہید ہونے والا دوسرا سرمچار عدیل بلوچ عرف حمید بلوچ ولد مراد جان سکنہ عیسیٰ، پنجگور ہے جس نے 4 جنوری 2023 کو بی ایل ایف میں بطور شہری گوریلا جدوجہد کا آغاز کیا اور بعد ازاں پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ انہوں نے مختلف محاذوں پر اپنی سرگرمیوں کے دوران غیر معمولی حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کردار ذمہ داری، شعور، نظم و ضبط اور ثابت قدم فیصلے کی علامت رہا۔ عدیل بلوچ کی مستقل مزاجی ساتھیوں کے لیے مشعل راہ ہے اور ان کی قربانی تنظیم کے مشنز میں واضح اثرات کی حامل رہے گی۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ تیسرا شہید سرمچار احمد بلوچ عرف دیدار ولد محمد سکنہ چتکان پنجگور ہے۔ انہوں نے 12 فروری 2024 کو تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور نظم و ضبط اور سنجیدگی سے اپنی قومی ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ انہوں نے ہر مرحلے پر اپنے فرائض کو سمجھداری اور لگن سے انجام دیا۔ وہ مختلف محاذوں پر عسکری سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہا اور آخری سانس تک قومی آزادی اور تنظیم کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ کھڑے رہے۔ احمد بلوچ کی لگن اور قربانی تنظیم اور ساتھیوں کے لیے ایک قابل فخر مثال ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ چوتھے شہید کیپٹن حافظ عبدالوہاب عرف بابر، ولد حاجی عبدالمنان بادینی، سکنہ ہزار گنجی، کوئٹہ تھے۔ انہوں نے 2019 میں بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے لیے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم کا انتخاب کیا اور اس میں شامل ہوئے۔ ابتداء میں انہوں نے کوئٹہ میں بطور شہری گوریلہ خدمات سرانجام دیئے۔ بعدازاں وہ 2024 میں پہاڑی محاذ میں منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے بولان، ناگاہو اور ہربوئی کے علاقوں میں خدمات سرانجام دیئے۔ ان کی قائدانہ صلاحیت، عسکری قابلیت اور تدبر کو دیکھتے ہوئے تنظیم نے انہیں کیپٹن کے عہدے پر فائز کیا، جس پر وہ اپنے شہادت تک برقرار رہے۔وہ اپنی ذمہ داریوں کو تسلسل، نظم و ضبط اور تنظیمی اصولوں کے مطابق انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 دسمبر 2025 کیپٹن حافظ عبدالوہاب عرف بابر تنظیمی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں دورانِ سفر تھے کہ راستے میں فوج کے ساتھ جھڑپ پیش آئی۔ دورانِ جھڑپ کپٹن بابر نے بہادری کے ساتھ دشمن کا سامنا کیا اور انہیں پیش قدمی سے روکے رکھا تاکہ دیگر ساتھی بحفاظت نکل سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن بابر اپنی شہادت تک قلات کے علاقے ہربوئی کے ذمہ دار رہے اور اپنے فرائض پوری توجہ اور ایک فعال رکن کی حیثیت سے انجام دیتے رہے۔
آخر میں بیان میں کہا گیا کہ تنظیم ان عظیم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جو قومی آزادی کیلئے مختلف محاذوں پر سرگرم رہے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں، عزم و استقامت اور مقصد سے وابستگی قابل تقلید ہیں جنہیں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ تنظیم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ شہداء کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا اور ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ شہداء کا جذبہ، حوصلہ اور ثابت قدمی سرمچاروں کیلئے مشعل راہ رہے گی۔