بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق گزشتہ شب 3 بجے پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے سابق جج جسٹس (ر) ظہور احمد شاہوانی کے گھر پر دھاوا بولا۔
عینی شاہدین کے مطابق اہلکاروں نے گھر میں داخل ہوتے وقت نہ کوئی قانونی اجازت نامہ دکھایا اور نہ ہی وارنٹ پیش کیا۔
چھاپے کے دوران جسٹس (ر) ظہور احمد شاہوانی کے بیٹے، اسٹیٹ کونسل اور وکیل ضمیر احمد شاہوانی کو زبردستی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
اہل خانہ نے اس کارروائی کو ’’اغوا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔
سیاسی و قانونی حلقوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بغیر وارنٹ کسی شہری کو اٹھا لینا ریاستی اداروں کے کردار پر سنگین سوالیہ نشان ہے اور اس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔