آپریشن ہیروف ٹو: تنظیم کی تاریخ ساز جنگی مہم، 14 شہروں میں 76 حملے، 362 دشمن اہلکار ہلاک، 93 سرمچار شہید ہوئے، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
28 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے آپریشن ہیروف فیز ٹو کے اختتام کی تفصیلی بیان جاری کردیا ہے جس میں 14 شہروں میں ہونے والے مربوط کارروائیوں کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کی زیر قیادت آپریشن ہیروف دوم چھ روزہ مربوط شہری جنگی حکمت عملی کا وہ فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا، جس نے نہ صرف بلوچ قومی مزاحمت کی عسکری استعداد اور تنظیمی ہم آہنگی کو عملی طور پر ثابت کیا بلکہ قابض ریاست کی عسکری برتری اور جنگی بیانیئے کو بنیاد سے چیلنج کردیا۔ 31 جنوری کی صبح پانچ بجے شروع ہونے والا یہ آپریشن 6 فروری کی شام چار بجے اپنے تمام عسکری و سیاسی مقاصد کے ساتھ مکمل ہوا۔ اس دوران بلوچستان کے 14 شہروں میں بی ایل اے کے مختلف یونٹس نے مجموعی طور پر 76 سے زائد حملے کیئے، جن میں متعدد بیک وقت، مربوط اور مشترکہ محاذوں پر انجام دیئے گئے۔

اس آپریشن میں بلوچ لبریشن آرمی کے تمام کلیدی یونٹس نے حصہ لیا: مجید بریگیڈ، فتح اسکواڈ، اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس)، زراب (انٹیلیجنس ونگ) اور ہکل (میڈیا ونگ)۔ مجموعی طور پر بی ایل اے کے 93 سرمچار جام شہادت نوش کرگئے، جن میں پچاس فدائین مجید بریگیڈ سے، چھبیس فتح اسکواڈ سے، اور سترہ ایس ٹی او ایس کے سرمچار شامل تھے۔ دوسری جانب، قابض پاکستانی فوج، فرنٹیئر کور، پولیس، سی ٹی ڈی، ملٹری انٹیلیجنس، انٹر سروسز انٹیلیجنس اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کے 362 سے زائد اہلکار مختلف جھڑپوں، فدائی حملوں، گھات اور توپ خانے کی کارروائیوں میں ہلاک کیئے گئے۔

بی ایل اے کے ہاتھوں 17 دشمن اہلکار گرفتار ہوئے جن میں سے 10 کو بلوچ ہونے کی بنیاد پر وارننگ کے ساتھ رہا کردیا گیا، جبکہ سات اہلکار تنظیم کی تحویل میں ہیں، جن پر جنگی جرائم اور بلوچ نسل کشی میں ملوث ہونے پر آئندہ بلوچ قومی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ دشمن کے درجنوں فوجی مراکز، چیک پوسٹیں، خفیہ اداروں کے دفاتر، تھانے، بینک، عسکری تنصیبات اور انفراسٹرکچر تباہ کیئے گئے، جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ، مواصلاتی آلات، تھرمل اسکوپ و نائٹ وژن ٹیکنالوجی قبضے میں لی گئی۔

کوئٹہ

بلوچ لبریشن آرمی نے صبح پانچ بجے کوئٹہ میں آپریشن کا آغاز کیا۔ کارروائیاں سریاب، ریڈ زون، لکپاس، مغربی بائی پاس، قمبرانی روڈ اور شہر کے دیگر اہم علاقوں میں پھیل گئیں، جن میں مجموعی طور پر درجنوں قابض اہلکار ہلاک ہوئے۔ مجید بریگیڈ کے فدائی سنگت مجید نے بارود سے بھری گاڑی قابض فوج کی چوکی سے ٹکرا کر خود کو قربان کیا، جس میں پولیس افسر سمیت آٹھ اہلکار مارے گئے۔ سنگت مجید نے زخمی حالت میں اپنی کارروائی مکمل کی۔

کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر سرمچاروں اور قابض فوج کے درمیان کئی گھنٹوں تک شدید جھڑپیں جاری رہیں، جن میں 30 سے زائد دشمن اہلکار ہلاک ہوئے۔ سرمچاروں نے بلوچستان یونیورسٹی، قمبرانی روڈ اور مغربی بائی پاس پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور فورسز کی نقل و حرکت کو روک دیا۔ قمبرانی روڈ پر ایک پوسٹ کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ مغربی بائی پاس پر دو گاڑیاں تباہ کی گئیں۔

سرمچاروں نے پانچ مختلف بینکوں پر کنٹرول حاصل کرکے انہیں نذرِ آتش کیا۔ چار پولیس تھانوں اور کسٹمز آفس سے اسلحہ اور جنگی سامان تحویل میں لیا گیا۔ پولیس لائن، پولیس ٹریننگ کالج اور زرعی مرکز میں جھڑپوں میں 9 اہلکار مارے گئے، جن میں دو پولیس افسران شامل تھے۔ سات فوجی گاڑیاں، بشمول دو بکتر بند گاڑیاں، تباہ ہوئیں۔ زراعت مرکز کے قریب ایک کواڈ کاپٹر بھی مار گرایا گیا جبکہ ایک اور کواڈ کاپٹر دشت کے علاقے میں تباہ کردیا گیا۔

شیخ زید ہسپتال کے اطراف سرمچاروں نے کئی گھنٹوں تک کنٹرول سنبھالا۔ کٹھ پتلی وزیر داخلہ علی مدد جتک کے ہوٹل اور مِل پر حملے میں عمارتیں نذر آتش کی گئیں اور ان کی گاڑی تحویل میں لی گئی۔ سونا خان پر حملے میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ ہزار گنجی اور کسٹمز کے علاقوں میں دو مخبر گرفتار کیئے گئے، جو بھیس بدل کر سرمچاروں کی نگرانی کر رہے تھے، جنہیں بعد ازاں ہلاک کیا گیا۔

قادرشار، ٹول پلازہ کے قریب قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر بی ایم بارہ کے گولے داغے گئے، جنہوں نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ٹول پلازہ، تیرہ میل، اور دشت میں نصب دھماکہ خیز مواد سے اہم سڑکیں اور ریل پل تباہ کر دی گئیں، جس سے دشمن کی لاجسٹک رسد کو شدید دھچکا پہنچا۔ تین دنوں تک بی ایل اے کوئٹہ کے متعدد علاقوں کا کنٹرول رکھنے اور آپریشن کے مقاصد پورے ہونے کے بعد کمانڈ کے احکامات پر خود واپس ہوئی۔

نوشکی

نوشکی میں بی ایل اے کے سرمچاروں نے ایک منظم اور ہمہ جہت کارروائی کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں اور اہم سرکاری و عسکری مراکز کو نشانہ بنایا اور کئی مقامات پر کنٹرول قائم کیا۔

مجید بریگیڈ کے فدائی فیضان شاہوانی عرف ریحان نے بارود سے بھری گاڑی انٹر سروسز انٹلیجنس  (آئی ایس آئی) کے  مرکزی دفتر سے ٹکرا کر حملے کا آغاز کیا، حملے میں آئی ایس آئی کے چودہ سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ دفتر پر تعینات فورسز کے متعدد اہلکار بھی ہلاک و زخمی ہوگئے۔

فدائی آصفہ مینگل نے دوسری بارود سے بھری گاڑی قابض فوج کے مرکزی کیمپ کے گیٹ سے ٹکرا کر دشمن کے دفاع کو شدید نقصان پہنچایا۔ برگیڈ کے ساتھی مرکزی کیمپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور اس کے بڑے حصے پر کنٹرول قائم کیا۔ دریں اثناء بس اڈہ کے قریب واقع قابض فوج کے دوسرے مرکزی کیمپ پر حملہ کیا گیا جہاں طویل جھڑپیں جاری رہیں۔

سرمچاروں نے سینٹرل جیل، سی ٹی ڈی دفتر، پولیس تھانہ، جوڈیشل کمپلیکس، ڈی سی آفس اور میونسپل کمیٹی پر کنٹرول حاصل کیا۔ نوشکی شہر میں پانچ دنوں تک مکمل کنٹرول کے دوران عوامی اجتماعات سے خطاب کیا گیا اور عوامی کمک بھی حاصل ہوئی۔

بی ایل اے کے دوسرے گروپ نے شہر پہنچتے ہی اسٹیشن پوسٹ کے سامنے فورسز کی دو گاڑیوں پر حملہ کیا جس میں متعدد اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ باقی اہلکار پوسٹ کے اندر بھاگ گئے۔ اسٹیشن پوسٹ پر قبضے کے لیئے طویل جھڑپیں ہوئیں جن میں بڑی تعداد میں اہلکار ہلاک ہوئے۔ اسی طرح کسٹم کیمپ پر بھی طویل جھڑپیں جاری رہیں۔

گلنگور کی جانب سے آنے والی بکتر بند اور دیگر فوجی گاڑیوں کو راستے میں نشانہ بنایا گیا اور نوشکی پہنچنے پر بھی ان پر حملے کیئے گئے۔ کیڈٹ کالج میں قائم فورسز پوسٹ پر حملہ کیا گیا جہاں طویل جھڑپیں جاری رہیں۔

احمد وال میں پوسٹوں پر حملہ کرکے قبضہ کیا گیا، ایک ٹرین کو نذر آتش کیا گیا، اور فورسز کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں دو گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

گلنگور میں فورسز کے مرکزی کیمپ اور پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا جبکہ کیشنگی سے لیکر گلنگور تک مرکزی شاہراہ پر مکمل کنٹرول قائم رکھا گیا اور پیش قدمی کرنے والے قافلوں پر متعدد حملے کیئے گئے، گاڑیاں تباہ ہوئیں اور ہلاکتیں ہوئیں۔ سرمچاروں تین روز تک گلنگور میں قابض فوج کی پیش قدمی کو روکے رکھا۔ شاہراہ کے ایک پل کو دھماکے سے تباہ کیا گیا جبکہ ریموٹ کنٹرول اور گھات حملوں میں تیرہ سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے۔ شیر جان آغا کے مقام پر بھی مرکزی شاہراہ پر ایک پل کو دھماکے میں تباہ کیا گیا۔

گوادر

گوادر میں بی ایل اے مجید بریگیڈ کے 9 فدائین نے دو دستوں میں منقسم ہو کر آپریشن میں حصہ لیا۔ ایک دستہ، جس میں فدائی دروشم، لاشاری، چنگیز اور یاگی شامل تھے، نے قابض پاکستانی خفیہ اداروں کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 12 اہلکار ہلاک ہوئے۔ کمپاؤنڈ کے قریب رہائشی کوارٹرز میں موجود خواتین و بچوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا، تاہم بعد ازاں قابض فوج نے انہی شہریوں کو فائرنگ کرکے شہید کیا۔

تقریباً چالیس منٹ بعد قابض فوج نے کمپاؤنڈ کی جانب پیش قدمی کی، جس پر جھڑپوں کا آغاز ہوا جو شام تک جاری رہیں۔ ان جھڑپوں میں 24 سے زائد اہلکار ہلاک اور تین فوجی گاڑیاں، جن میں ایک بکتر بند شامل تھی، تباہ ہوگئیں۔

دوسرا دستہ، جس میں فدائی سرباز، ارمان، کریم، شہزاد اور یاسر شامل تھے، نے گوادر پورٹ کے قریب پورٹ بازار میں مضبوط پوزیشنز سنبھالیں۔ مساجد میں اعلانات کے بعد سرمچار بازار میں نکلے، عوام سے ملاقات کی اور سیاسی گفتگو کی۔ شہر میں قابض فوج کی پیش قدمی کو پسپا کیا، بعدازاں سرمچاروں نے پورٹ کی جانب پیش قدمی کی اور متعدد راکٹ داغے جو اپنے اہداف پر لگے۔ جھڑپیں اگلے روز تک جاری رہیں، جن میں 19 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے۔

مستونگ

مستونگ میں بی ایل اے مجید بریگیڈ کے پانچ فدائین نے قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر حملہ کیا۔ فدائین نے داخلی راستے پر مورچے سنبھال کردشمن کی پیش قدمی روکی۔ آٹھ گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپوں میں 22 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

بی ایل اے کے دیگر سرمچاروں نے شہر میں پولیس تھانہ، جیل، تحصیل، واپڈا آفس اور دو بینکوں کا کنٹرول حاصل کیا۔ تھانے سے اسلحہ، ایک گاڑی اور ایگل اسکواڈ کے سات موٹر سائیکل تحویل میں لے کر عمارتوں اور واپڈا کی پانچ گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

کنڈ مسوری میں قابض فوج کے پوسٹ کو ایس پی جی-9 سے نشانہ بنایا گیا۔ مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران ایک سرکاری گاڑی کو روکا گیا، اسلحہ ضبط کیا گیا، افراد کو بعدازاں رہا کر دیا گیا، اور شاہراہ کا ایک پل بارودی دھماکے سے تباہ کیا گیا۔

تمپ

تمپ شہر سمیت ناصر آباد، رودبن، بالیچہ، پل آباد، ملانٹ اور گومازی میں بی ایل اے نے مربوط حملے کیئے۔ فدائی سنگت سراج عرف نبیل اور عبید عرف بام/سنجر نے پل آباد اور رودبن میں بارود سے بھری گاڑیاں قابض فوج کے مرکزی کیمپوں سے ٹکرا کر تباہ کیں۔

بعد ازاں دیگر دستوں نے دونوں کیمپوں پر گھنٹوں تک حملے کیئے، جن میں 36 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے۔ رودبن میں حاجی توکل اور تلار، اور پل آباد میں سنگت نود جھڑپوں میں شہید ہوئے۔

دوسرے دستوں نے ملٹری انٹیلیجنس کے دفتر اور گریڈ اسٹیشن میں قائم مرکزی کیمپ کو بھاری و خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جبکہ دوسرے فوجی کیمپ پر تیس مارٹر گولے داغے گئے۔ ان حملوں میں مزید سات اہلکار ہلاک ہوئے۔

سرمچاروں نے تمپ پولیس تھانے پر حملہ کر کے مکمل کنٹرول حاصل کیا۔ قابض فوج کی پیش قدمی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دو اہلکار ہلاک کیئے گئے۔ تمپ قلات کے مقام پر تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

سرمچاروں نے قابض فوج کے آلہ کاروں پر چھاپے مارے۔ ایک ٹھکانے سے آلہ کار عابد مارا گیا اور اسلحہ ضبط ہوا۔ ڈاکٹر صالح کے مرکز سے بھی اسلحہ ضبط کیا گیا اور تین گاڑیاں تباہ کی گئیں۔

بالیچہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے ونگ پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ چالیس سے زائد گرنیڈ لانچر داغے گئے جنہوں نے دشمن کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

اسی روز رودبن میں تین گھنٹے جھڑپیں جاری رہیں، نو اہلکار ہلاک ہوئے اور دو گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ پل آباد میں دو مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، جبکہ ملانٹ کے کیمپ کو بھی بارہا نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران سرمچاروں نے علاقے میں گشت، ناکہ بندی اور عوامی رابطے برقرار رکھے۔

پسنی

آپریشن ھیروف دوم کے دوران بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے فدائین نے بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں قائم پاکستانی نیوی کے مرکزی کیمپ اور کوسٹ گارڈ کیمپ کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کا آغاز فدائی کماش فضل عرف میران نے کیا، جنہوں نے بارود سے بھری گاڑی نیوی کیمپ کے مرکزی داخلی گیٹ سے ٹکرا دی۔ دھماکے کے نتیجے میں گیٹ پر تعینات کم از کم سات اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔

اس ابتدائی حملے کے فوراً بعد چھ رکنی فدائی یونٹ نے، جس میں فدائین زربار، زرینہ، ابرام، کوہسار، امیر آجو اور آپریشن کمانڈر کیّا شامل تھے، کیمپ میں داخل ہوکر پوزیشنیں سنبھال لیں۔ کیمپ کے اندر قابض نیوی اور بحریہ کی خصوصی یونٹوں کے ساتھ گھمسان کی جھڑپیں پانچ سے زائد گھنٹوں تک جاری رہیں، جن کے دوران پاکستانی فورسز کے کم از کم 33 اہلکار مارے گئے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن کو نہ صرف جانی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ نیوی کیمپ کی دفاعی ساخت کو شدید دھچکا لگا۔

تربت

تربت کے محاذ پر بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے صبح چھ بجے پاکستان نیوی کے اہم عسکری مرکز ‘نیوی اسٹیشن صدیق ( پی این ایس صدیق) پر منظم حملے کا آغاز کیا۔ کارروائی میں سرمچاروں نے 82 ایم ایم کے بیس سے زائد مارٹر گولے داغے، جو درستگی کے ساتھ اپنے اہداف پر گرے اور کیمپ میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

حملے کے بعد قابض افواج نے فضائی مدد طلب کرتے ہوئے پیش قدمی کی کوشش کی، جس کا بی ایل اے کے سرمچاروں نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔ گھنٹوں جاری رہنے والی ان جھڑپوں میں پاکستانی فوج کے 11 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس محاذ پر مجید بریگیڈ کے فدائی سنگت حاکم دورانِ مزاحمت جام شہادت نوش کرگئے۔

تربت کا یہ حملہ نہ صرف نیوی کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے ساحلی علاقے میں قابض ریاست کی عسکری موجودگی کو چیلنج کرنے کی صلاحیت کا بھی عملی مظاہرہ پیش کیا۔

مند

مند بازار کا کنٹرول حاصل کرکے سرمچاروں نے عوام سے ملاقات کی، بینکوں کو نذر آتش کیا گیا۔ دوسرے دستے نے سورو کیمپ کو نشانہ بنایا۔

کوسٹل ہائی وے

پسنی بدوک کے مقام پر سرمچاروں نے آٹھ گھنٹے طویل ناکہ بندی قائم کی، گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ کی گئی۔ اور کوسٹل ہائی وے پر کنٹرول حاصل کرکے دشمن کی رسد کے ذرائع بند کردیئے گئے۔

اورناچ

اورناچ میں مرکزی آر سی ڈی شاہراہ پر ناکہ بندی کی گئی۔ ایک پیدل گشتی ٹیم پر حملے میں 14 اہلکار ہلاک کیئے گئے۔ پیش قدمی کی کوشش کرنے والی بکتر بند کو آئی ای ڈی سے تباہ کیا گیا۔ قافلے میں شامل ایک ٹرک پر گھات حملے میں مزید 9 اہلکار ہلاک ہوئے۔

ایک گاڑی سے 7 اہلکار گرفتار کرکے اسلحہ سمیت حراست میں لیئے گئے۔ ان پر بلوچ قومی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

ایک اور حملے میں مزید 7 اہلکار گھات میں ہلاک کیئے گئے۔

خضدار

بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے خضدار کے علاقے وڈھ میں گاسلیٹی کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ راشن پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ سرمچاروں نے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں تباہ کرنے کے بعد گھات لگا کر مزید حملہ کیا۔ اس کارروائی میں قابض فوج کے ایک افسر، کیپٹن عمر سمیت سات اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر زخمی ہوئے۔

اس دوران آر سی ڈی شاہراہ پر پورے روز ناکہ بندی قائم رہی اور سرمچاروں نے عوام سے ملاقات اور رابطہ جاری رکھا، جس سے علاقے میں قابض فورسز کی نقل و حرکت مکمل طور پر محدود رہی۔

خاران

خاران میں آپریشن ھیروف دوم کا آغاز قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ پر حملے سے ہوا۔ بلوچ لبریشن آرمی کے فدائین اور فتح اسکواڈ کے سرمچاروں نے کیمپ کے گیٹ پر تعینات اہلکاروں کو ہدف بناتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں شدید جھڑپیں شروع ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں بی ایل اے مجید برگیڈ کے فدائی ساتھی سنگت احسان شہید ہوگئے، جبکہ فتح اسکواڈ کے ساتھی دوستین، تنویر، چیئرمین بلوچ خان اور موسیٰ بھی جام شہادت نوش کرگئے۔

کارروائیوں کا دائرہ خاران کے دیگر اہم عسکری اور خفیہ مراکز تک پھیلایا گیا۔ انٹیلیجنس نیٹ ورک کو نشانہ بناتے ہوئے آئی ایس آئی کے دفتر پر براہ راست حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، کلان کور کے مقام پر سرمچاروں نے سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فورسز کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

مزید برآں، نوروز قلات کے علاقے میں بلوچ سرمچاروں اور قابض افواج کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران ایک مشترکہ قافلے کو، جس میں پاکستانی فوج اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے شامل تھے، نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں حافظ ممتاز کے گروہ سے تعلق رکھنے والے ارکان سمیت نو فورسز اہلکار ہلاک ہوگئے۔

بی ایل اے کے سرمچاروں نے ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ شاہد ملازئی کے ذاتی ٹھکانے پر بھی حملہ کیا۔ کارروائی میں شاہد ملازئی سمیت اس گروہ کے سات کارندے مارے گئے۔ سرمچاروں نے مذکورہ ٹھکانے سے اسلحہ قبضے میں لینے کے بعد اسے مکمل طور پر نذر آتش کردیا۔

خاران میں دشمن کی عسکری صلاحیت کو مزید کمزور کرتے ہوئے بی ایل اے نے دو اہم عسکری پلوں، زمی اور ساروان کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا، جس سے فوجی رسد اور نقل و حرکت کو شدید دھچکا پہنچا۔

ان تمام کارروائیوں کے دوران سرمچاروں نے دشمن فورسز سے تھرمل سائٹ، نائٹ وژن، اور دیگر حساس جنگی آلات تحویل میں لے کر قابض افواج کی تکنیکی برتری کو بھی زائل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

دالبندین

دالبندین میں بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کے پانچ فدائین نے قابض پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹر کو حملے میں نشانہ بنایا۔

فدائی سبزو نے بارود سے بھری گاڑی مرکزی کیمپ سے ٹکرا کر حملے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد فدائی میراث، دُرا، غنی اور سارنگ کامیابی کے ساتھ کیمپ کے اندر داخل ہوگئے اور دشمن فوج کے ساتھ شدید جھڑپوں کا آغاز ہوا جو رات گئے تک جاری رہیں۔ حملے میں قابض فوج کے 43 سے زائد اہلکار ہلاک ہوگئے۔

قلات

بلوچ لبریشن آرمی کے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ نے قلات شہر میں قابض فوج کے مرکزی کیمپ (میس) کے داخلی دروازے کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے دھماکے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے گاڑی کو کامیابی سے مرکزی دروازے تک پہنچا کر ریموٹ کنٹرول دھماکے سے تباہ کیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے تین اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے اور کیمپ کا داخلی حصہ تباہ ہوگیا۔

اس کے بعد سرمچاروں نے پولیس تھانے پر کنٹرول حاصل کرکے اسلحہ اپنی تحویل میں لیا جبکہ ڈی سی آفس کو نذر آتش کردیا گیا۔ شہر میں کئی گھنٹوں تک سرمچاروں کا گشت جاری رہا۔

اوتھل

اوتھل میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے مخبروں کے ایک اہم ٹھکانے کو دھماکے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس نیٹ ورک کو نقصان پہنچا اور علاقے میں دشمن کے خفیہ رابطوں کو دھچکا لگا۔

کچھی

بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں قابض پاکستانی فورسز کے ایک پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا اور دشمن کو جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

کولپور کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر کئی گھنٹوں تک ناکہ بندی قائم رکھی گئی۔ اس دوران قابض فوج نے کواڈ کاپٹر استعمال کیا جسے سرمچاروں نے مار گرایا۔

اسی علاقے میں ایک پوسٹ کو ایس پی جی-9 کے گولوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دشمن کو مزید نقصان اٹھانا پڑا۔

سبی

بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے سبی شہر میں قابض فوج کے کیمپوں اور ڈی سی آفس کو تین مختلف حملوں میں نشانہ بنایا۔ کرمووڈھ کے مقام پر بھی ایک کارروائی کی گئی جس میں دشمن کو نقصان پہنچا۔

سبی اور بولان کے درمیان مرکزی شاہراہ پر گھات لگا کر قابض فوج کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑے۔

بختیار آباد میں ایک پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا گیا جبکہ اوچ پاور پلانٹ سے منسلک ٹرانسمیشن لائن کے دو مرکزی ستون بارودی مواد سے تباہ کیئے گئے جس سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

صحبت پور

صحبت پور کے علاقوں دو دا ٹبا، چکڑا، میر حسن، باسکٹ اور بٹی میں پانچ مختلف حملوں میں قابض فوج کے پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں 5 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

نصیر آباد

بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے نصیر آباد میں اعظم کوٹ کے قریب قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا۔ قافلے کی دو گاڑیاں براہ راست حملے کی زد میں آئیں جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک اور سات سے زائد زخمی ہوگئے۔

اسی دوران ربی کے قریب ایک مواصلاتی ٹاور کو نذر آتش کرکے تباہ کردیا گیا جس سے دشمن کے رابطہ نظام کو نقصان پہنچا۔

ان تمام کارروائیوں نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کردی کہ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ قومی مزاحمت نہ صرف عسکری اعتبار سے منظم اور مؤثر ہے بلکہ اپنی حکمت عملی، نظم و ضبط اور عوامی حمایت کے باعث قابض ریاست کے ہر اس دعوے کو غلط ثابت کررہی ہے جس میں بلوچستان کو مکمل طور پر قابو میں ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے۔ آپریشن ھیروف دوم کے دوران بلوچستان کے مختلف شہروں اور شاہراہوں پر بیک وقت کارروائیاں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچ سرمچار اپنی مرضی اور منصوبہ بندی کے مطابق محاذ کھولنے، دشمن کو منتشر کرنے اور اسے مسلسل دفاعی پوزیشن پر مجبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس آپریشن نے قابض پاکستانی ریاست کے عسکری، نفسیاتی اور سیاسی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیئے ہیں۔ دشمن کو نہ صرف جانی اور مالی نقصانات اٹھانا پڑے بلکہ اس کی وہ برتری بھی بری طرح متاثر ہوئی جسے وہ بلوچستان کے شہری علاقوں میں ناقابلِ چیلنج سمجھتا تھا۔ متعدد مقامات پر گھنٹوں اور بعض جگہوں پر طویل مدت تک قائم رہنے والا کنٹرول اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ بلوچ مزاحمت اب صرف پہاڑوں تک محدود نہیں بلکہ میدان اور شہر دونوں اس جدوجہد کے عملی دائرے میں شامل ہوچکے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی اس موقع پر ان تمام بلوچ مرد و خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے اس آپریشن کے دوران مختلف انداز میں اپنا کردارادا کیا۔ اطلاعات کی فراہمی، نقل و حرکت میں معاونت، ناکہ بندیوں کے دوران تعاون، اور اجتماعی دباؤ کے باوجود ثابت قدمی وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ کامیابی کسی ایک یونٹ یا دستے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ قوت، حوصلے اور عزم کی عکاس ہے۔

ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ بلوچ قومی مزاحمت ایک منظم، سیاسی اور نظریاتی جدوجہد ہے جو اپنی سرزمین کی آزادی، وسائل اور قومی وقار کے دفاع کے لیئے جاری ہے۔ جب تک بلوچ سرزمین پر قبضہ، جبر اور استحصال جاری رہے گا، مزاحمت بھی جاری رہے گی، اور بلوچ سرمچار ہر اس محاذ پر موجود رہیں گے جہاں اپنی قوم اور سرزمین کے دفاع کی ضرورت ہوگی۔

Share This Article