اسلام آباد خودکش حملہ: سابق افغان انٹیلی جنس چیف نے آئی ایس آئی پر سنگین الزامات عائد کر دیے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان کے سابق انٹیلی جنس چیف اور نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے الزام عائد کیا ہے کہ اسلام آباد میں شیعہ مسجد پر ہونے والا خودکش دھماکہ ایک ایسے گروہ نے انجام دیا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے منسلک ہے۔

نبیل کے مطابق حملے کی ذمہ داری مبینہ طور پر حرکت المجاہدین پر عائد ہوتی ہے، جس کی قیادت مولانا فضل الرحمان خلیل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی آئی ایس آئی کی کسی "پسِ پردہ ریاستی نیٹ ورک” کے ذریعے ممکن ہوئی اور اس کے پیچھے ایسے روابط کارفرما ہیں جو برسوں سے قائم ہیں۔

اپنے بیان میں نبیل نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمان خلیل کے مختلف انٹیلی جنس حلقوں سے دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ ان کے مطابق شائع شدہ تصاویر اور رپورٹس میں خلیل کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کے بیٹے عبداللہ گل کے ساتھ بھی دیکھا گیا ہے، جو ان روابط کی نشاندہی کرتا ہے۔

نبیل نے یہ بھی کہا کہ خلیل 1980 کی دہائی سے مختلف جہادی گروہوں سے وابستہ رہے ہیں، القاعدہ اور اسامہ بن لادن سے روابط رکھتے تھے اور 1998 میں امریکہ کے خلاف جاری کیے گئے فتویٰ پر دستخط کرنے والوں میں شامل تھے۔ ان کے مطابق اس پس منظر کے باوجود خلیل پاکستان میں برسوں سے بلا روک ٹوک سرگرم ہیں۔

انہوں نے اس حملے کو پاکستان کے چند نمایاں شیعہ علماء کی حالیہ تنقیدی گفتگو اور خطے میں پاکستانی فوج کی تعیناتی سے متعلق فیصلوں کے ساتھ بھی جوڑا۔

واضح رہے کہگذشتہ روزاسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں خودکش حملہ ہوا جس میں 31 سے زائد افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

Share This Article