بلوچستان میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے)کی آپریشن ہیروف فیز ٹو کی مربوط حملوں اور سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسزاہلکاروں کی ہلاکتوں سمیت سرکاری املاک کو بھاری نقصانات پہنچانے کے بعد پولیس کی نفری کو پورا کر نے کے لیے حکومت نے پارلیمنٹرینز سے اضافی سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں سنٹرل پولیس آفس بلوچستان نے سخت نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان میں اراکینِ پارلیمنٹ اور سابق وزراء کو فراہم کیے گئے سرکاری گن مینوں کی واپسی کے معاملے پر تمام متعلقہ اضلاع سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
سنٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری یاد داشتی مراسلے کے مطابق گن مینوں کی واپسی سے متعلق پہلے ہی 29 جنوری 2025 کو ہدایات جاری کی جا چکی تھیں، تاہم متعدد اضلاع کی جانب سے تاحال مطلوبہ رپورٹس موصول نہیں ہوئیں۔
مراسلے میں آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی پولیس رینجز، اور مختلف اضلاع کے ایس ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اراکینِ پارلیمنٹ کو فراہم کیے گئے اضافی گنرز اور سرکاری سیکیورٹی نفری کی تفصیلات فوری طور پر ارسال کریں اور 06 فروری 2026 تک رپورٹ جمع کروائیں۔
دستاویز کے مطابق وزیر علی حسن زہری، سینیٹر ثمینہ زہری، سابق وزیر داخلہ ضیاء لانگو، سابق چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی، نواب چنگیز مری، سابق وزیر اعلیٰ علی مردان ڈومکی اور دیگر سیاسی شخصیات کو مختلف اضلاع میں پولیس، بی سی اور اے ٹی ایف کے اہلکار بطور سیکیورٹی تعینات ہیں، جن میں سے بڑی تعداد کو واپس بلانے کی سفارش کی گئی ہے۔
سنٹرل پولیس آفس نے واضح کیا ہے کہ غیر ضروری اور اضافی سیکیورٹی نفری کی واپسی بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور دستیاب وسائل کے بہتر استعمال کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے تاخیر کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔