ریکوڈک منصوبہ : امریکا کی پاکستان کیلئے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکا نے بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے والٹ پروجیکٹ کے تحت پاکستان کو یہ قرض ایکسپورٹ امپورٹ بینک فراہم کرے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ کی زیرِ صدارت واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس میں اہم معدنیات کی عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنانے، نئے ذرائع تلاش کرنے اور قابلِ بھروسا لاجسٹکس نیٹ ورکس کے قیام پر غور کیا گیا، جس کے بعد بلوچستان کے اس بڑے معدنیاتی منصوبے کے لیے مالی تعاون کی منظوری دی گئی۔

امریکا کے اس فیصلے نے ریکوڈک منصوبے کو عالمی سطح پر مزید اہمیت دے دی ہے، تاہم بلوچستان کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اس منصوبے کے مستقبل پر نئے سوالات بھی کھڑے کر رہی ہے۔

امریکی قرض کی منظوری سے قبل اور 31 جنوری سے 6 فروری تک آزادی پسندبلوچ مسلح تنظیموں کی مسلح کارروئیوں کے پیش نظر کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ نے بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے کے تمام پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو مارک ہِل نے آمدنی سے متعلق کانفرنس کال میں بتایا کہ سیکیورٹی خدشات میں اضافے کے باعث منصوبے کی سرمایہ کاری، ٹائم لائن اور مجموعی سیکیورٹی انتظامات پر نظرثانی شروع کر دی گئی ہے، اور جائزہ مکمل ہونے کے بعد کمپنی آئندہ حکمتِ عملی سے آگاہ کرے گی۔ ریکوڈک منصوبہ ملکیت کے اعتبار سے مشترکہ ہے، جس میں 50 فیصد حصہ بیرک گولڈ، 25 فیصد وفاقی سرکاری اداروں اور 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کے پاس ہے۔

بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بعد بلوچ آزادی پسند عسکری اور سیاسی تنظیموں نے غیرملکی اور پاکستانی کمپنیوں کو بیانات کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں جاری منصوبوں سے دستبردار ہو جائیں۔

ان گروہوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے معدنی وسائل مقامی لوگوں کی ملکیت ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی قابلِ قبول۔

انہوں نے بیرونی سرمایہ کاروں سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان ایک جنگ زدہ خطہ ہے، اس لیے پاکستانی حکومت اور فوج کی ایما پر یہاں سرمایہ کاری نہ کی جائے۔

ان تنظیموں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ 1952 سے ریاست بلوچستان کے وسائل نکال کر پنجاب اور دیگر صوبوں کو فائدہ پہنچاتی رہی ہے جبکہ بلوچستان کو اس کے حصے کا فائدہ نہیں ملا، اور یہی صورتحال گوادر پورٹ کے معاملے میں بھی دیکھی گئی۔

مقامی آبادی کی جانب سے بھی ریکوڈک منصوبے پر ماضی میں زمینوں کے استعمال، معاشی فوائد کی تقسیم اور روزگار میں غیرمقامی افراد کی شمولیت جیسے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان حالات میں امریکی قرض کی منظوری ایک بڑی پیش رفت ضرور ہے، لیکن سیکیورٹی خدشات، مقامی مزاحمت اور سیاسی تناؤ اس منصوبے کے لیے بڑے چیلنج کے طور پر موجود ہیں۔

بیرک گولڈ کا منصوبے کا دوبارہ جائزہ لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریکوڈک کی کامیابی کا انحصار صرف مالی معاونت پر نہیں بلکہ بلوچستان میں امن و استحکام، مقامی آبادی کی شمولیت اور ایک جامع سیاسی حکمتِ عملی پر ہوگا۔

Share This Article