مغوی اے سی تمپ کی بازیابی کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، ترجمان حکومت بلوچستان

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کوئٹہ اعتزاز احمد گورایہ نے کہا ہے کہہلاک ہونے والے مغوی مصور خان کاکڑ کے اغواء میں ملوث اور سہولت کار افغانی ملزم کو گرفتار کرکے اس کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے لئے کوششیں جاری ہے۔ اغواء میں ملوث 2 ملزمان مارے گئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو سینٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اس موقع پر مصور خان کاکڑ کے والد راز محمد بھی موجود تھے۔

ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ نے کہا کہ پولیس مصور خان کاکڑ کے اغواء میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے ۔مغوی مصور خان کے اغوا میں ملوث نعمان رند نامی شخص ماراگیا۔

اغوا میں ملوث ریحان طیب شاہ باجوڑ کا رہنے والا ہے گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں واقعے میں ملوث ہشام نامی شخص کو گرفتار کرلیاگیا اور اغواء میں استعمال میں ہونے والی گاڑی بھی برآمد کرلی گئی ملزم ہشام ریمانڈ پر ہے ۔

واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے کارروائیاں جاری ہیں۔مصور خان کی شہادت پر جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے ۔ کیونکہ پولیس اور اداروں نے جتنی بھی کوششیں اس کی بحفاظت بازیابی کیلئے کی تھی وہ سب کے سامنے ہیں لیکن اس کی شہادت ہمارے لئے افسوسناک ہے اور ہماری بحفاظت بازیابی کیلئے کی جانے والی کوششیں رائیگاں گئیں ۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے وقوعہ کے بعد واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی جو مختلف علاقوں میں رہائش کیلئے حاصل کئے گئے گھروں پر کاروائیاں کرنے کے علاوہ گلستان سے اسلحہ فراہم کرنے والے 3 ملزمان اور مالک مکان کو بھی گرفتار کیا گیا جو پابند سلاسل ہے ۔

ہشام ملزم نے افغانستان سے گاڑی لانے کے بعد گلستان سے اسلحہ بھی لایا اور متعدد بار افغانستان گیا اور بلوچستان آیا اور اغواء سے قبل مصور خان کے گھر اور ان کی دکان کی ریکی بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ گاڑی اور دیگر تمام چیزوں کی تصدیق سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ہوئی ہے اور پولیس کی جانب سے اس مقدمے میں ملوث مجرمان جو مصور خان کے خون میں شامل ہیں انہیں قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں وارداتوں میں کچھ ذاتی دشمنی کچھ دہشت گردی ،کچھ حادثات اور دیگر واراتوں میں مارے جارہے ہیں ہماری کوشش ہے کہ حالات کی بہتری کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔

اس موقع پر حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیرا علیٰ بلوچستان نے سڑکوں کو بلاک کرنے اور بد امنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ قتل و غارت گری کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی ہے مستونگ اور دیگر علاقوں میں روڈ بلاک کرنے والوں کے خلاف فورسز کی فوری کارروائی پر وہ علاقہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر مسلح افراد کتنی دیر تک کنٹرول کرتے ہیں؟مستونگ اور قلات میں مسلح افراد کی کارروائی میں نقصان کیوں نہیں ہوا کیونکہ ان علاقوں میں پولیس اور سیکورٹی فورسز نے بروقت موقع پر پہنچ کر جوابی کارروائی کی ہے ۔

ژوب میں بسوں سے مسافروں کو اتار کر قتل کرنے کا واقعہ شام کے وقت پیش آیاحالانکہ اس سے قبل جن مقامات پر واقعات پیش آئے وہاں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرولنس شروع کی گئی جس میں رڑکن اور راڑہ شم کے علاقے شامل ہیں مذکورہ مقام پر سرولنس بڑھائی گئی ہے ۔

گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے وہاں پر بھی سرولنس بڑھارہے ہیں گزشتہ دنوں وزیر اعلی بلوچستان کی صدارت امن وامان کی صورتحال سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔ وزیر اعلی نے امن امان کی صورتحال سے متعلق اہم ہدایت کی ہیں۔شعبان سے اغوا ہونے والے 7 افراد کی بازیابی کے حوالے سے یا ان کی ہلاکت کی تصدیق کیوں نہیں کی جارہی ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ٹھوس شواہد کی روشنی میں ہلاکت کی تصدیق کرتی ہے حالانکہ ان کے اغواء کی کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کی ہے جس طرح مصور کی نعش ملنے کے بعد اس کا ڈی این اے کرنے پر تصدیق کی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر تربت کی بحفاظت بازیابی کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

واضع رہے کہ 4 جون 2025 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچارں نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک آپریشن میں تمپ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی کو سرینکن کے مقام پر ان کے اہل خانہ، سرکاری محافظوں اور ڈرائیور سمیت حراست میں لے لیاتھا۔

بعد ازاں زیر حراست اسسٹنٹ کمشنر کی ایک مختصر ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں وہ اپنی رہائی کے حوالے سے حکومتی حلقوں کے نام کسی قسم کی کوئی پیغام جاری کیا تھا ۔

بی ایل ایف کی جانب سے بھی اب تک زیر حراست اسسٹنٹ کمشنر کی رہائی کے لئے کوئی شرائط سامنے نہیں آئے ۔البتہ بی ایل ایف ترجمان کا کہنا تھا کہ تفتیش و تحقیقات کے بعد تنظیم اپنے فیصلے کا باقاعدہ اعلان کرے گی۔

Share This Article