بی ایل اے کا پاکستان کویرغمالیوں کی رہائی کیلئے 48 گھنٹوں کی الٹی میٹم، مطالبات بھی پیش کئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کی آزادی کے لئے سرگرم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے ) نے پاکستان کو 214 یرغمال اہلکاروں کی رہائی کیلئے 48 گھنٹوں کی الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس دوران بلوچ سیاسی قیدیوں، جبری گمشدہ افراد اور قومی مزاحمتی کارکنوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا نہیں کیا گیا تو تمام جنگی قیدیوں کو بے اثر کر دیا جائے گا اور ٹرین مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔

بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک تازہ ترین پریس ریلیز میں ٹرین پر قبضے کی صورتحال واضع کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے آزادی پسندوں نے منصوبہ بند فوجی حکمت عملی اور جارحانہ پیش قدمی کے ذریعے قابض پاکستانی فوج کی زمینی اور فضائی کمک کو آٹھ گھنٹے کی لڑائی کے بعد پسپائی پر مجبور کر دیا۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں اب تک دشمن کے 30 سے ​​زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں جب کہ قابض فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل اے نے گزشتہ 8 گھنٹوں سے ٹرین اور تمام یرغمالیوں کا مکمل کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ جنگی قوانین کے تحت ان 214 یرغمالیوں کو جنگی قیدی تصور کیا جاتا ہے اور بی ایل اے قیدیوں کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔ قابض ریاست پاکستان کو بلوچ سیاسی قیدیوں، جبری گمشدہ افراد اور قومی مزاحمتی کارکنوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ فوج، نیم فوجی، پولیس اور انٹیلی جنس افسران سمیت 214 پاکستانی اہلکاروں کو بی ایل اے کی طرف سے مکمل حفاظت اور جنگی اصولوں کے مطابق رکھا جا رہا ہے۔ اگر مقررہ مدت میں ہمارے مطالبات پورے نہ کیے گئے یا قابض ریاست نے اس دوران کسی فوجی کارروائی کی کوشش کی تو تمام جنگی قیدیوں کو بے اثر کر دیا جائے گا اور ٹرین مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ پاکستانی فوج اس کے نتائج کی پوری ذمہ داری قبول کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلان حتمی اور اٹل ہے۔ قابض دشمن کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ بی ایل اے اپنے ہر فیصلے کو مؤثر طریقے سے اور فوری طور پر نافذ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

Share This Article