بلوچستان کے نصیرآباد کے تحصیل تمبو کے علاقے روپا پل میں ہائیر سیکنڈری اسکول تاج محمد لہڑی میں ایف ایس سی کے طلبہ سے سلپ کے نام پر فی طالب علم 1000 روپے وصول کیے جانے کا انکشاف ہواہے جو کہ طلبہ اور والدین کے مطابق سراسر غیر قانونی اور زیادتی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ اسکول میں تقریباً 400 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، اور اگر ہر طالب علم سے یہ رقم لی جا رہی ہے تو یہ ایک بڑی مالی زیادتی بن جاتی ہے۔
طلبہ کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ رقم سپرنٹنڈنٹ کے "چائے پانی” کے لیے ہے، جس پر والدین اور طلبہ نے شدید احتجاج کیا ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ ایک عام طالب علم اور اس کے گھر والوں کے لیے یہ رقم دینا آسان نہیں ہوتا، اور تعلیم جیسے ادارے میں اس طرح کی زبردستی ناقابلِ قبول ہے۔
لواحقین اور طلبہ نے ڈائریکٹر ایجوکیشن بلوچستان اور ڈپٹی کمشنر نصیرآباد سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو فوری طور پر دیکھتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور طلبہ کو اس غیر قانونی بوجھ سے نجات دلائی جائے۔