ایگل فورس اور ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں مزید 2 نوجوان قتل، یہ اجتماعی سزا کی پالیسی ہے، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے چاکر بلوچ اور محمد خالد کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات ریاستی جبر، ماورائے عدالت قتل اور منظم تشدد کے اُس بڑھتے ہوئے سلسلے کا حصہ ہیں جس نے پورے بلوچستان کو خوف، عدم تحفظ اور اجتماعی سزا کے ماحول میں دھکیل دیا ہے۔

تنظیم کے مطابق چاکر بلوچ، ولد برکت، ایک 18 سالہ طالبعلم، کو بلیدہ کے علاقے مہناز میں اپنی دکان پر ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہ نے نشانہ بنا کر قتل کیا۔ وہ اپنی زندگی اور روزگار کا آغاز ہی کر رہا تھا، مگر اسے اسی مقام پر گولیوں کا نشانہ بنا کر موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس منظم پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو خوفزدہ، خاموش اور اجتماعی سزا کے ذریعے زیرِ دباؤ رکھا جا رہا ہے۔ یہ عمل بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، خصوصاً ICCPR کے آرٹیکل 6 (حقِ زندگی) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ اسی طرح محمد خالد، ولد امیر محمد، ایک 18 سالہ مزدور اور نوشکی کا رہائشی، کو کوئٹہ میں ایگل فورس اہلکاروں نے انتہائی غیر انسانی تشدد کے بعد قتل کیا۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل فروخت کرنے اور گھر کا سامان خریدنے آیا تھا۔ خون کا عطیہ دینے جیسے انسانی عمل کے چند گھنٹے بعد ہی اسے ساریاب روڈ پر روکا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قریب سے گولیاں ماری گئیں اور زخمی حالت میں اسپتال لے جانے کے بجائے نامعلوم مقام پر منتقل کر کے مزید تشدد کیا گیا۔ بعد ازاں اسے سول اسپتال لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ اس کے اہلِ خانہ کو نہ صرف بروقت اطلاع نہیں دی گئی بلکہ انہیں ہراساں کیا گیا اور لاش کی حوالگی میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔

بی وائی سی کے مطابق یہ دونوں واقعات بلوچستان میں جاری اُس سنگین انسانی حقوق بحران کی واضح مثال ہیں جہاں نہ قانون کی عملداری باقی رہی ہے اور نہ ہی کسی ادارے سے انصاف کی امید۔ خواتین، بچے، مزدور، طلبہ—سب خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور کوئی بھی محفوظ نہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاستی ادارے مکمل استثنیٰ کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ خاندان انصاف کے لیے دربدر ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی خاموشی اور عالمی اداروں کی عدم توجہی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

بی وائی سی نے عالمی انسانی حقوق تنظیموں، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی قانونی اداروں سے ایک بار پھر مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں اور ریاستی تشدد کی آزاد، شفاف اور فوری تحقیقات کرائی جائیں تاکہ مزید جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جا سکے۔

Share This Article