پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ محمد صدیق لانگو کی اہلیہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کو 7 اپریل کی رات تقریباً 12 بجے کلی اسماعیل کوئٹہ سے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ کئی دن گزرنے کے باوجود اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے، مگر کسی بھی شہری کو بغیر قانونی کارروائی کے حراست میں رکھنا اور لاپتہ کرنا آئین، ملکی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اعلیٰ حکام اور عدلیہ سے اپیل کی کہ اگر ان کے شوہر پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر باحفاظت رہا کیا جائے۔
اہلیہ نے کہا کہ بچے ہر روز اپنے والد کے بارے میں سوال کرتے ہیں مگر ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ یہ بے خبری اور اذیت خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک دہائی سے زائد عرصے سے قائم ہے اور جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ طویل بھوک ہڑتال اور جدوجہد کے بعد پیرانہ سالی اور بگڑتی صحت کے باعث وفات پا گئے۔ اب تنظیم کی قیادت چیئرمین نصر اللہ بلوچ اور ایگزیکٹیو ممبر نیاز نیچاری کر رہے ہیں۔