لبنان اسرائیل کے درمیان مذاکرات آج شروع ہونگے،حزب اللہ کی مخالفت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات آج امریکی دارلحکومت واشنگٹن میں شروع ہونگے جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک ہونگے جبکہ حزب اللہ نے مذاکرات کو بے فائدہ قرار دے دیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل کے روز واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی سفیروں کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں شریک ہوں گے۔

یہ مذاکرات امریکی محکمۂ خارجہ کے دفتر میں ہوں گے، جن کا مقصد جنوبی لبنان میں جاری شدید تنازع کو روکنے کی کوشش کرنا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم ان حملوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔

اسی دوران حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے لبنانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کر دے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ "پورا لبنان اسرائیل کا ہدف ہے” اور حکومت کو چاہیے کہ وہ فوج کو متحرک کرے۔

نعیم قاسم نے واضح کیا کہ حزب اللہ کا فیصلہ نہ رکنے کا ہے اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنانی حکام اسرائیلی اور امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے واشنگٹن روانہ ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ لبنان نے مارچ کے اوائل میں جنگ کے آغاز کے چند دن بعد ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی، جبکہ صدر جوزف عون نے ملک کو علاقائی جنگ میں دھکیلنے پر اس گروہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

واشنگٹن میں ہونے والی یہ ملاقات خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے، تاہم حزب اللہ کی مخالفت نے مذاکرات کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Share This Article