مستونگ میں پبلک لائبریری میں توڑ پھوڑ اور چوری، بی ایس او کا شدید احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں شہید چیئرمین منظور بلوچ پبلک لائبریری میں توڑ پھوڑ اور چوری کے واقعہ نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ۔جسے علمی و آگہی پھیلانے کی کوششوں پر قدغن لگانے کا ایک علم دشمن اقدام قرار دیا جارہا ہے ۔

اس سلسلے میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بلوچستان کے ترجمان نے شہید چیئرمین منظور بلوچ پبلک لائبریری مستونگ میں توڑ پھوڑ اور چوری کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک عمارت پر حملہ نہیں بلکہ علم، شعور اور ایک روشن مستقبل پر وار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستونگ جیسے تاریخی اور علمی حوالے سے اہم علاقے میں اس نوعیت کی کارروائی انتہائی تشویشناک ہے، جو معاشرے کو اندھیروں کی طرف دھکیلنے کی منظم کوشش معلوم ہوتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ لائبریریاں کسی بھی معاشرے کی فکری بنیاد ہوتی ہیں، جہاں نوجوان نسل اپنے مستقبل کی تعمیر کرتی ہے۔ ایسے اداروں کو نشانہ بنانا دراصل تعلیم دشمنی اور سماجی اقدار کی نفی ہے۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں بھی تعلیمی ادارے اور طلبہ نشانہ بنتے رہے ہیں، مگر ذمہ دار عناصر کو قرار واقعی سزا نہ ملنے کے باعث ایسے واقعات کا تسلسل برقرار ہے۔

ترجمان نے ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں، ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور لائبریری کو فوری طور پر بحال کرکے طلبہ کے لیے فعال بنایا جائے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی ایس او ہر اس قوت کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی جو بلوچ نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی۔

Share This Article