بلوچستان یونیورسٹی کے اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے یونیورسٹی انتظامیہ کے بایو میٹرک حاضری کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اساتذہ بایو میٹرک حاضری نہیں لگائیں گے۔
اس حوالے سے جنرل باڈی کا اجلاس مرکزی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس کی صدارت صدر ایسوسی ایشن پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ نے کی۔ اجلاس میں کابینہ اراکین سمیت بڑی تعداد میں اساتذہ نے شرکت کی، جن میں خواتین اساتذہ بھی نمایاں طور پر شریک تھیں۔
اجلاس میں اساتذہ نے انتظامیہ کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تدریسی پیشے کی اصل روح تحقیق اور تعلیم ہے، اساتذہ کی کارکردگی کو کلاس روم حاضری اور تحقیقی سرگرمیوں کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے، نہ کہ دن میں دو مرتبہ بایو میٹرک حاضری کے ذریعے۔ اساتذہ نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور حکومتی کفایت شعاری پالیسی کو بھی اس فیصلے کے خلاف دلائل کے طور پر پیش کیا۔
تفصیلی بحث کے بعد اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اساتذہ بایو میٹرک حاضری نہیں دیں گے اور کلاس اٹینڈنس کو ہی اصل حاضری تصور کیا جائے گا، جیسا کہ یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے فیصلوں میں بھی واضح ہے۔ مزید یہ طے پایا کہ انتظامیہ کو تین روز کی مہلت دی جائے گی تاکہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کرے۔ بصورت دیگر جمعرات کو ایسوسی ایشن کی کابینہ کا اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور ممکنہ سخت اقدامات پر غور کیا جائے گا۔