فہمیدہ بلوچ کی المناک موت جابرانہ تعلیمی نظام کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتی ہے،بی ایس ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ طلبہ یونین پر عائد پابندی نے جامعات کو خوف، جبر اور ہراسمنٹ کے مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ طلبہ کے پاس اپنی آواز بلند کرنے اور اپنی نمائندگی کے لیے کوئی مؤثر پلیٹ فارم موجود نہیں، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ، ناانصافی اور استحصال کا شکار ہو رہے ہیں، اور بعض اوقات انتہائی سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اسی تناظر میں ایک نہایت افسوسناک اور شرمناک واقعہ محمد میڈیکل کالج میرپورخاص میں پیش آیا، جہاں طالبہ فہمیدہ بلوچ مبینہ طور پر مسلسل جنسی ہراسگی کا نشانہ بنتی رہی۔ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی اسی ادارے میں دو طالبات اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکی ہیں۔ مزید برآں، بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل، حالیہ لسبیلہ یونیورسٹی میں خاتون لیکچرار کو ہراساں کیے جانے کے واقعات، اور میڈم نائیلہ رند سمیت متعدد کیسز اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ تعلیمی اداروں میں ایک منظم اور استحصالی نظام موجود ہے۔

ترجمان نے کہا کہ فہیمدہ بلوچ کی موت کو محض ایک انفرادی واقعہ قرار دینا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ درحقیقت یہ ایک منظم قتل ہے، جس کے پیچھے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے لے کر صوبائی و وفاقی حکومتوں تک سب کی مجرمانہ غفلت اور خاموشی شامل ہے۔ یہ نام نہاد درسگاہیں طویل عرصے سے تعلیم کے نام پر کاروبار کرنے والی ایسی جگہوں میں تبدیل ہو چکی ہیں جہاں انصاف ناپید اور ظلم معمول بن چکا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایک طرف عورت کو "ننگ” کے نام پر چار دیواری میں قید کر کے اس کی معاشی اور سماجی آزادی سلب کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب سرمایہ داری کے نام نہاد آزادی کے نعرے کے تحت اسے محض منافع کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ خواتین کی حقیقی آزادی کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں ایک شے نہیں بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس نظام اور ان تمام بنیادوں کا خاتمہ ناگزیر ہے جو طبقاتی تقسیم اور نجی ملکیت سے جڑی ہوئی ہیں۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں، تمام ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور طلبہ یونین پر عائد پابندی کو فوراً ختم کر کے طلبہ کو ان کا بنیادی حقِ نمائندگی واپس دیا جائے۔ بصورت دیگر، یہ خاموشی اور مجرمانہ لاپروائی مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی رہے گی۔

Share This Article