دکی واقعے کیخلاف ہڑتال، لیبر تنظیموں کا احتجاجی ریلی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے دکی میں جیند کول مائنز پر جمعرات کی شب ہونے والے حملے کے واقعے کے خلاف لیبر تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے ریلی نکالی اور کوئلہ کانوں میں احتجاجاً کام بند کردیا۔

کام بند کرنے پر مزدروں میں لڑائی جھگڑے کے دوران دو افراد زخمی ہوگئے۔

اس سلسلے میں لیبر تنظیموں کا اجلاس دکی پارک میں منعقد ہوا۔

نیشنل لیبر فیڈریشن دکی کے ضلعی صدر امبر خان یوسفزئی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک تحفظ نہیں دیا جاتا کام بند رہیگا ۔20 شہدا کا واقعہ افسوناک ہے۔تحفظ دینے تک کام بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی نے 10 اکتوبر کے واقعے میں شہید ہونے والے 20 مزدوروں اور پہلے شہید ہونے والے دو مزدوروں کو 15 لاکھ معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔چار دن تک شہدا کے ورثا کو معاوضہ دینے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔کوئلہ کانوں میں کام شروع کرنے کے حوالے سے دو مہینے پہلے کئے گئے ۔

اپنے پریس کانفرس پر مزدوروں سے معافی چاہتا ہوں۔ایف سی حکام نے ہمیں طفل تسلی دیکر ہم سے کام شروع کروایا تھا۔

دریں اثنا کول مائنز پر ہونے والے حملے میں ایک سول سیکورٹی اہلکار سمیت 21 مزدوروں کی شہادت کے واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او دکی کی مدعیت میں سی ٹی ڈی تھانہ لورالائی میں درج کرلی گئی۔

مقدمہ فرد نمبر 16/24 نامعلوم افراد کے خلاف قتل اور دہشتگردی کے دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

واقعے سے متعلق تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا ہے۔

دکی میں علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

Share This Article
Leave a Comment