بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچی شاعری نوجوانوں میں ریاست مخالف رجحانات پیدا کرنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ صدیوں پرانا ہے، اور بلوچ شعراء قوم کے جذبات کو ابھار کر نوجوانوں کو ریاست سے دور کر دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں بعض ادبی اکیڈمیاں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ ملکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ادبی اکیڈمیوں کا آڈٹ کیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ کچھ اکیڈمیاں بلوچی شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کے فروغ میں ملوث ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق اسی تناظر میں حکومت ادبی اکیڈمیوں کو اپنے دائرہ اختیار میں لانے کے لیے ایک بِل اسمبلی میں زیرِ بحث ہے۔
دوسری جانب ادبی اکیڈمیوں اور ادبی حلقوں نے مجوزہ بل کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ادبی اداروں کو حکومتی کنٹرول میں لانے سے ان کی خودمختاری متاثر ہوگی، ادبی سرگرمیاں محدود ہو جائیں گی اور ادارے مفلوج ہو کر رہ جائیں گے۔
ادبی حلقوں کی جانب سے اس سلسلے میں احتجاج بھی جاری ہے، اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ادبی اداروں کی خودمختاری برقرار رکھی جائے اور انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔