کرخ : سی پیک روٹ پر قبضہ برقرار، جھڑپوں میں متعدد اہلکار وں کی ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے کرخ میں بلوچ آزادی پسندوں اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپیں پانچویں روز بھی جاری ہیں، جبکہ سی پیک روٹ پر مسلح افراد کا کنٹرول برقرار ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق فورسز کی پیش قدمی کی کوششوں کے دوران ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

مسلح افراد کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک پاکستانی خفیہ اداروں کے دو اہلکاروں کی ہلاکت، ایک کی گرفتاری اور دو کواڈ کاپٹر تباہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ گزشتہ روز پیش قدمی کی کوشش کرنے والے فوجی قافلے پر حملے میں دو اہلکار زخمی ہوئے جبکہ متعدد کے ہلاک ہونے کی غیر مصدقہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

خضدار شہر سے تقریباً 70 کلومیٹر دور کرخ کے علاقے میں بلوچ آزادی پسند گزشتہ چند ہفتوں سے اپنی منظم موجودگی ظاہر کر رہے ہیں۔ مختلف مقامات پر چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ کرخ شہر میں پولیس تھانے سمیت متعدد سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کیا جا چکا ہے۔

یہ سرگرمیاں علاقے میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دی جا رہی ہیں۔

آزادی پسندوں کی مضبوط موجودگی کے باعث پاکستانی فورسز نے علاقے میں پیش قدمی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق بکتر بند گاڑیوں اور دیگر فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑا قافلہ کرخ کی جانب بڑھتا دیکھا گیا ہے۔ اس دوران ڈرون طیاروں کی پروازیں بھی جاری ہیں، جو ممکنہ طور پر نگرانی اور ہدفی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

اب تک پاکستانی فورسز یا سرکاری حکام کی جانب سے جھڑپوں، ہلاکتوں یا علاقے کی صورتحال سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث زمینی حقائق کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

Share This Article