بلوچ قیادت کے خلاف مقدمات، طاقت کے تابع قانون کی تصویر پیش کرتے ہیں،بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ان کی قیادت کے خلاف قائم مقدمات محض چند سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی قانونی و اخلاقی حیثیت کا امتحان ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ جب مقدمات میں ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جائیں، عدالتی کارروائی غیر ضروری تاخیر کا شکار ہو، اور ضمانت جیسے بنیادی حق کو بھی طول دیا جائے، تو یہ صورتحال قانون کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ریاستی اداروں کا وجود قانون، منطق اور اخلاقی جواز پر قائم ہوتا ہے، اور جب یہ تینوں ستون کمزور پڑ جائیں تو ہر قانونی کارروائی مشکوک دکھائی دینے لگتی ہے۔ تنظیم کے مطابق بی وائی سی کی قیادت کے خلاف مقدمات میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ ان کی حقیقی بنیاد کیا ہے، کیونکہ اگر الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہوتے تو ان کے ساتھ واضح اور ناقابلِ تردید شواہد بھی پیش کیے جاتے۔

بیان میں کہا گیا کہ مختلف اضلاع میں یکے بعد دیگرے ایف آئی آرز کا اندراج اور ضمانت کے معاملات میں غیر معمولی تاخیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانونی عمل کو فطری رفتار کے بجائے غیر ضروری طور پر طول دیا جا رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق اگر جرم ہوا ہے تو ثبوت پیش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن جب استغاثہ دلائل مکمل کرنے میں ناکام رہے اور ٹھوس مواد فراہم نہ کر سکے، تو حراست کا برقرار رہنا ریاست کے آئینی و اخلاقی وجود پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ اختلافِ رائے اور پُرامن سیاسی سرگرمی کو جرم میں تبدیل کرنا کسی بھی ریاست کے لیے اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ تنظیم کے مطابق اگر کسی آواز کو صرف اس لیے خاموش کیا جائے کہ وہ طاقت کے غالب بیانیے سے مختلف ہے، تو یہ انصاف نہیں بلکہ اختیار کا استعمال ہے۔

بیان میں ماہ رنگ بلوچ کے اس مؤقف کا بھی حوالہ دیا گیا کہ:
“ہم اپنی جدوجہد کے ذریعے اس ملک کے قانون اور عدالتوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔ یہاں کوئی عدالت نہیں، یہاں کوئی قانون نہیں۔ یہ قانون اور عدالتیں اس لیے بنائی گئی ہیں تاکہ بلوچوں کی نسل کشی کی جا سکے اور ان کے وسائل لوٹے جا سکیں۔”

تنظیم کے مطابق یہ صرف ایک فرد کا ردِعمل نہیں بلکہ بلوچستان کی مجموعی سیاسی و سماجی حقیقت کا مظہر ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جب قانون طاقت کے تابع ہو جائے اور عدالتیں غیر جانبدار نگہبان کے بجائے اختیار کے سائے میں کھڑی نظر آئیں تو ریاست کا اخلاقی اور آئینی جواز ختم ہو جاتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پُرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات، طویل حراست اور عدالتی تاخیر یہ ظاہر کرتی ہے کہ قانون انصاف کے لیے نہیں بلکہ اقتدار کے تحفظ کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق وہی قوتیں جو بی وائی سی کے رہنماؤں کو عدالتوں میں پیش کر کے اپنے فیصلوں کو آئینی رنگ دینے کی کوشش کرتی ہیں، خود کبھی ان عدالتوں کے فیصلوں کی پاسداری نہیں کرتیں، اور یہی تضاد ریاستی نظام کی منافقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ بلوچ قوم نے برسوں سے اس ملک کے قانون سے دوری اختیار کر رکھی ہے، مگر آج بی وائی سی کی نڈر قیادت نے ریاست کے اصل چہرے کو مزید واضح کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہاں نہ آزاد عدالتیں ہیں، نہ حقیقی قانون، اور ریاست کا نام نہاد قانونی ڈھانچہ محکوم اقوام کے استحصال کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

تنظیم کے مطابق ملک میں عملاً ایک غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے، جہاں اقتدار کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ وہ قوتیں ہیں جو پسِ پردہ بیٹھ کر فیصلے کرتی ہیں۔ بیان میں شاہ جی کے اس مؤقف کا بھی حوالہ دیا گیا کہ:
“یہ وہ کردار ہیں جنہیں صرف اس لیے رکھا گیا ہے کہ جب چاہا جائے انہیں چابی دے کر ایک مخصوص مؤقف دہروایا جائے۔”

بیان میں کہا گیا کہ جب کوئی تحریک یا سیاسی آواز اس مسلط کردہ بیانیے کو چیلنج کرتی ہے تو پوری ریاستی مشینری اس کے خلاف متحرک ہو جاتی ہے، اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا جاتا ہے، اور پُرامن سیاسی جدوجہد کو مقدمات، گرفتاریوں اور دباؤ کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آخر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ بی وائی سی کی قیادت کی استقامت نے ثابت کر دیا ہے کہ جب عوامی شعور بیدار ہو جائے تو طاقت کے بڑے بڑے ڈھانچے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں، اور حقیقی طاقت عوام کی ہے جو اپنی جدوجہد سے ریاست کے جھوٹے جواز کو بے نقاب کر سکتی ہے۔

Share This Article