سیکورٹی کی مد میں ماہانہ3کروڑ کی ادائیگی باوجود ہمیں تحفظ حاصل نہیں، دکی کان ما لک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع دکی میں گذشتہ شب مسلح افرادکے حملے میں 20کانکنوں کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد شہر میں بھر میں احتجاجاً شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

ڈسٹرکٹ کونسل دکی کے چیئرمین حاجی خیر اللہ ناصر جو کوئلہ کان کے مالک بھی ہیں نے واقعہ کی تفصیلات بتا تے ہو ئے کہا کہ یہ حملہ رات ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوا اور تقریبا دو بجے تک جاری رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے پاس نہ صرف جدید ہتھیار، راکٹ لانچر بلکہ ڈرون بھی تھے جن کی مدد سے وہ جھاڑیوں اور درختوں کی آڑ میں چھپنے والے مزدوروں کو بھی تلاش کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کے فوری بعد انہوں نے ضلع میں موجود اعلی سکیورٹی افسران اور آئی جی پولیس تک سے رابطہ کیا مگر علاقہ صرف ڈیڑھ کلومیٹر دور ہونے کے باوجود صبح روشنی ہونے تک پولیس اور سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ تک نہیں پہنچیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر رات بھر فائرنگ اور دھماکوں سے گونجتا رہا مگر کوئی مزدوروں کی مدد کو نہیں آیا۔

حاجی خیر اللہ کا کہنا تھا کہ مزدوروں کی لاشیں اور زخمیوں کو بھی انہوں نے خود جاکر ہسپتال پہنچایا۔

ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین اور کوئلہ کان کے مالک حاجی خیراللہ ناصر نے دعویٰ کیا کہ کوئلہ کان مالکان اور مزدوروں کو لسانی بنیادوں پر سرگرم شدت پسند تنظیموں کی جانب سے کافی عرصہ سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ مسلح تنظیم نے اس سے پہلے بارہ کانکنوں کو اغوا کیا جن میں سے 9 رہا ہو گئے جبکہ3 اب بھی ان کی قید میں ہیں۔

حاجی خیراللہ ناصر کا کہنا تھا کہ دکی میں ایک ہزار سے زائد چھوٹی بڑی کانیں ہیں یہاں سے روزانہ چھ ہزار ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ روزانہ تقریباً 120گاڑیاں کوئلہ لے کر پنجاب اور ملک کے دوسرے صوبوں کو جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کوئلہ کان مالکان سکیورٹی کے نام پر فی ٹن 220روپے کے حساب سے ماہانہ تقریباً تین کروڑ روپے سکیورٹی فورسز کو ادا کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں تحفظ حاصل نہیں، ہم سکیورٹی سے مطمئن نہیں۔

Share This Article
Leave a Comment