بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں گوادر اور جھاؤ میں پاکستانی فوج پر حملوں میں 4 اہلکار وں کی ہلاکت، تربت نیول کیمپ کو 107mm راکٹوں سے نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ایک مستعد دستے نے 12 مارچ 2026 کو گوادر کے مضافاتی علاقوں میرجت اور ڈومب کے درمیانی مقام پر گھات لگا کر قابض پاکستانی فوج کی دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ ہدف بننے والے فوجی اہلکار تیل بردار گاڑیوں سے بھتہ خوری میں ملوث تھے۔ یاد رہے قابض پاکستانی فوج اور دیگر فورسز تیل بردار گاڑیوں سے بھتہ وصول کرکے بلوچ ٹرانسپورٹرز کا معاشی استحصال کرتے ہیں۔ بی ایل ایف کی اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن فوج کے تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک، جبکہ ایک شدید زخمی ہوا۔
انہوں نے کہاکہ اسی ہی روز ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے تربت شہر میں دشمن کے اہم ترین عسکری مرکز نیول کیمپ پر 107mm کے دو راکٹ داغ کر اسے نشانہ بنایا۔ دونوں میزائل کیمپ کے قلب میں اپنے متعین کردہ اہداف پر جا لگے۔ جس کے نتیجے میں قابض فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن کے قلعہ بند ٹھکانوں کے اندر اس پر میزائل حملے اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ قابض فورسز سرمچاروں کی پہنچ سے کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 6 مارچ 2026 کو جھاؤ کے علاقے گزی میں فوجی چیک پوسٹ کی سیکورٹی پر مامور فوجی اہلکار پر اسنائپر رائفل سے حملہ کیے، حملے کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ گوادر اور جھاؤ میں قابض پاکستانی فوج کے 4 اہلکاروں کی ہلاکت اور تربت شہر میں نیول کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔