بلوچستان کے ضلع کیچ سے پاکستانی فورسز نے ایک کاروباری شخص سمیت 2افرادکو جبری لاپتہ کردیااور ایک لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔جبکہ ایک نعش برآمد ہوئی ہے جس کے جسم پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔
تربت میں بلیدہ کے رہائشی کاروباری شخصیت حاجی خالد بلوچ جوسک کے علاقے سے مبینہ چھاپے کے دوران گرفتاری کے بعد لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اہلخانہ کے مطابق گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے علاقے میں ریڈ کے دوران انہیں حراست میں لیا، تاہم اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں اور اہلخانہ ان کی خیریت سے لاعلم ہیں۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے انہیں کسی بھی ادارے کی جانب سے حاجی خالد بلوچ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث گھر والوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق حاجی خالد بلوچ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور علاقے میں ایک پرامن فرد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
اسی طرح ضلع کیچ میں ایک اور نوجوان کی جبری گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت نظام بلوچ ولد محمد بجار کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع کیچ کے علاقے سنگ آباد کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نظام بلوچ کو پاکستانی فورسز نے 12 مارچ کی رات دیر گئے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا۔
اہل خانہ کے مطابق نظام بلوچ کی گرفتاری کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے، جس کے باعث خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہے۔
دوسری جانب تربت کے علاقے ناصرآباد سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت نوید ولد مراد محمد سکنہ ناصرآباد کے نام سے ہوئی ہے جسے گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق لاش کو تحویل میں لے کر قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ضروری کارروائی کے بعد میت لواحقین کے حوالے کردی گئی۔
دریں اثنا ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ کوشک سے تعلق رکھنے والے جبری لاپتہ نوجوان دلدار بلوچ ولد محمد حسین بازیاب ہوگئے ہیں۔
دلدار بلوچ کو پچھلے سال 14 اگست 2025 کو بلیدہ کرکٹ گراؤنڈ سے فورسز نے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا تھا کل رات کو تربت سے بازیاب ہوگئے ہیں۔