بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستانی فورسز پر چار بڑے اور مہلک حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں متعدد اہلکاروں کے جانی نقصان کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
پنجگور کے علاقے پروم میں مبینہ طور پر پاکستانی فوجی قافلے پر حملہ ہوا، جہاں ابتدائی رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز کو کافی جانی نقصان پہنچا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے کارروائی کے دوران نائٹ ویژن اسکوپ کا استعمال کیا۔
اسی دوران کوئٹہ کے علاقے ڈگاری کے پینگو میں مسلح افراد نے گھات لگا کر سی ٹی ڈی اہلکاروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں2 اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔
اہلکار اس وقت نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
اسی علاقے میں چند گھنٹے بعد ایک اور حملہ ہوا جہاں نامعلوم افراد نے سی ٹی ڈی کی گاڑی کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پاکستانی فورسز کو مبینہ طور پر مزید جانی نقصان پہنچا۔
یہ حملہ اسی مقام پر آج ہونے والی دوسری کارروائی تھی۔
اسی طرح خاران کے علاقے گروک کے قریب بھی مبینہ طور پر 6 پاکستانی فوجی گاڑیوں کے قافلے پر شدید حملہ ہوا، جس میں 24 سے زائد فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں ڈرون پروازوں کی بھی اطلاع ملی ہے۔
یہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستانی فورسز پر ہونے والا چوتھا مہلک حملہ ہے۔
حکام کی جانب سے ان واقعات پر کوئی موقف اب تک سامنے نہیں آیا، اور نہ ہی کسی تنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔