17 فروری 2026 کو کراچی کے علاقے ملیر، شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے 24 سالہ طالبعلم حمدان بلوچ کی نمازِ جنازہ بدھ 25 فروری کو لیاری کے علاقے فٹبال چوک، بلوچ چوک میں ادا کی گئی۔
نمازِ جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی جبکہ پولیس اور بلوچ شہریوں کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔
اطلاعات کے مطابق نمازِ جنازہ لیاری کے فٹبال ہاؤس کے مقام پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جہاں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچوں کی بھی سینکڑوں کی تعداد میں شرکت ہوئی۔ تاہم موقع پر کراچی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی بھاری نفری تعینات تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی رہی اور بعض مقامات پر اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ انہیں نمازِ جنازہ کی ادائیگی میں رکاوٹوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ نمازِ جنازہ ایک مذہبی اور بنیادی انسانی حق ہے، جس میں مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔
نمازِ جنازہ کے بعد شرکا نے سی ٹی ڈی کے خلاف نعرے بازی کی اور واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ کرائی گئیں تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 17 فروری کو شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں چار نوجوانوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ہلاک افراد میں جلیل ولد نور محمد، نیاز قادر ولد قادر بخش اور حمدان عرف حکیم ولد محمد علی شامل تھے جبکہ ایک شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
ادھر بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے مقابلے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق حمدان بلوچ 29 دسمبر 2025 سے لاپتہ تھے اور انہیں لیاری کے علاقے دھوبی گھاٹ پل کے قریب سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔
مرحوم کا تعلق گولیمار کے علاقے حسن اولیاء ولیج، ریکسر لین سے بتایا جاتا ہے۔
لواحقین اور سماجی حلقوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔