بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے گولیمار کے رہائشی نوجوان حمدان ولد محمد علی کے مبینہ پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں جبری گمشدگی کے بعد قتل کیا گیا اور اب ان کی لاش ورثا کے حوالے نہیں کی جا رہی۔
بدھ کے روز اہل خانہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور بعد ازاں پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
اہل خانہ کے مطابق حمدان بلوچ کو 29 دسمبر 2025 کو سی ٹی ڈی اہلکاروں نے دھوبی گھاٹ پل کے قریب سے بغیر کسی وارنٹ کے حراست میں لیا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح جبری گمشدگی کا واقعہ تھا۔ بعد ازاں 6 جنوری 2026 کو سی ٹی ڈی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ حمدان کو رئیس گوٹھ سے ایک مسلح تنظیم سے تعلق اور سہولت کاری کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
لواحقین نے بتایا کہ منگل کے روز سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ حمدان بلوچ ایک مبینہ مقابلے میں مارا گیا اور وہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔ اہل خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات دے کر واقعات کو چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے لاش کی شناخت کر لی ہے، تاہم ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی کی اجازت کے بغیر میت ورثا کے حوالے نہیں کی جا سکتی، جبکہ متعلقہ حکام مختلف حیلے بہانوں سے معاملہ مؤخر کر رہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں موجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما فوزیہ بلوچ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے جبری گمشدگی، پھر دہشت گردی کے الزامات اور آخرکار مبینہ جعلی مقابلہ، یہ سب اقدامات قانون سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور حمدان بلوچ کی لاش کا فوری طور پر شفاف پوسٹ مارٹم کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔