اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ’ماہرین کی سطح‘ پر مذاکرات باضابطہ طور پر شروع ہو گئے ہیں۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اس مرحلے میں دونوں فریقین کے پیش کردہ مطالبات کے تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سربراہان کی سطح پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے۔ جسے دو سرکاری عہدیداروں نے "مثبت” قرار دیا۔
پاکستانی ذرائع اور وائٹ ہاؤس دونوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا، ایران اور پاکستان کے نمائندے ایک ہی میز پر بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس پریس پول کے مطابق امریکا کی جانب سے مختلف شعبوں کے تکنیکی ماہرین اسلام آباد میں موجود ہیں جبکہ واشنگٹن سے بھی اضافی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
ایرانی وفد میں بھی اعلیٰ سطح کے حکام شامل ہیں، جن میں ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی بھی موجود ہیں۔
مذاکرات سے قبل امریکی اور ایرانی وفود نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق "تعمیری انداز” میں آگے بڑھیں گے۔
پاکستانی دارالحکومت میں مذاکرات مکمل طور پر بند دروازوں کے پیچھے جاری ہیں اور صحافیوں کو محدود معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اسلام آباد میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے، جبکہ دنیا بھر سے آئے صحافیوں کے لیے جناح کنونشن سینٹر میں خصوصی میڈیا سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران "بری طرح ہار رہا ہے” اور یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز جلد کھل جائے گی۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان میں موجود ایرانی وفد "پوری قوت کے ساتھ ایرانی مفادات کا دفاع کر رہا ہے” اور یہ سلسلہ "جرأت مندی کے ساتھ جاری رہے گا”۔
علاقائی صورتحال کے تناظر میں لبنان میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 200 سے زائد حزب اللہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان میں چھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔