کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی حراست میں چار بلوچ نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعے نے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی شکل اختیار کر لی ہے۔
مقتول حمدان بلوچ کے والد محمد علی نے اپنے بیٹے کی حراستی موت کے خلاف باضابطہ طور پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کراچی زون، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اسلام آباد اور نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) میں درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات "ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022” کے تحت کی جائیں۔
حمدان بلوچ 5 جنوری 2026 سے سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھے اور ان کے خلاف مقدمات درج تھے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق حمدان پولیس ریمانڈ پر تھے جس کی مدت 18 فروری 2026 تک مقرر تھی۔ اس کے باوجود 17 فروری کو سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا کہ حمدان شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک مقابلے کے دوران مارا گیا۔
لواحقین نے اس دعوے کو جعلی اور اسٹیجڈ مقابلہ قرار دیا ہے۔
اسی مبینہ مقابلے میں جلیل ولد محمد نور اور نیاز ولد قادر بخش بھی ہلاک ہوئے، جو اس وقت سی ٹی ڈی کی حراست میں تھے۔ ایک چوتھے شخص کو پولیس نے غیر شناخت شدہ قرار دیا۔
درخواست گزار کے مطابق مقتولین کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا، حالانکہ قانون کے مطابق حراستی موت کی صورت میں پوسٹ مارٹم لازمی ہے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ لاشیں قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دفنا دی گئیں، جس سے شفاف تحقیقات کے امکانات متاثر ہوئے۔
درخواست میں دفعہ 176 ضابطہ فوجداری (CrPC) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ پر لازم ہے کہ عدالتی انکوائری کرے، لیکن تاحال کوئی انکوائری شروع نہیں کی گئی۔
محمد علی نے الزام عائد کیا ہے کہ سی ٹی ڈی اور مقامی پولیس حقائق چھپا رہی ہیں اور نوجوانوں کے قتل کی براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔