جیونی حملے میں پاکستان کوسٹ گارڈ کے 3 اہلکار دوران پٹرولنگ سمندرمیں ہلاک ہوگئے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی علاقے جیونی میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملے کی مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈز کی ایک پیٹرولنگ اسپیڈ بوٹ کو بحیرۂ بلوچ میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 اہلکار ہلاک ہو گئے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں نائیک افضل، سپاہی جمیل اور سپاہی عمر شامل ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور بھی ایک اسپیڈ بوٹ پر سوار تھے اور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔

حکام نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، تاہم حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

یہ واقعہ اس نوعیت کا پہلا حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو بحیرہ بلوچ کے پانیوں میں رپورٹ ہوا ہے۔

ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ جیونی میں نامعلوم افراد نے فورسز کو نشانہ بنایا، جس میں تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں حکام نے وضاحت کی کہ حملہ دراصل سمندر میں پیٹرولنگ کے دوران پیش آیا۔

بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں ماضی میں بھی "زِرپہاز” (یعنی سمندر کی حفاظت) کے نام پر گوادر میں نمایاں کارروائیاں کر چکے ہیں، جب انہوں نے گوادر پورٹ آفس اور شہر کے پہاڑی پر واقع فائیو اسٹار ہوٹل پرل کانٹی نینٹل (پی سی) کو نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں مسلح افراد نے کئی گھنٹوں تک قبضہ برقرار رکھا اور فورسز کے ساتھ شدید جھڑپ کی، جبکہ پی سی ہوٹل پر فدائی حملے کے دوران حملہ آوروں نے طویل مزاحمت کی اور لڑتے ہوئے مارے گئے۔

یہ واقعات نہ صرف بلوچستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی گوادر کی سیکیورٹی صورتحال کو موضوعِ بحث بنا چکے ہیں۔

اب تک اس حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

Share This Article