بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی علاقے جیونی اور سرحدی ضلع نوشکی میں سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر سنگین ہو گئی ہے۔
اتوار کے روز جیونی میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر مسلح حملے میں کم از کم 3 اہلکار ہلاک ہو گئے، جبکہ دوسری جانب نوشکی شہر کو فورسز نے مکمل محاصرے میں لے لیا ہے جہاں نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جیونی میں نامعلوم مسلح افراد نے سیکیورٹی فورسز کی ایک ٹیم کو نشانہ بنایا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
حکام نے واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب نوشکی میں صورتحال گزشتہ کئی ہفتوں سے کشیدہ ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق اتوار کی صبح فورسز کی بڑی تعداد نے نوشکی بازار، قاضی آباد، گریڈ اسٹیشن، غریب آباد اور ملحقہ علاقوں کا محاصرہ کر لیا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ داخلی راستوں پر ناکہ بندیاں لگا دی گئی ہیں اور شہریوں کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز کلی قادر آباد میں بھی فورسز نے گھنٹوں طویل محاصرہ کیا، جس دوران فائرنگ کی آوازیں سنائی گئیں۔
اطلاعات کے مطابق عابد مینگل ولد نور محمد مینگل اور طاہر خان ولد محمد رحیم جان بادینی نامی دو افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی سرکاری مؤقف جاری نہیں کیا۔
نوشکی میں گزشتہ دو ماہ سے جزوی کرفیو نافذ ہے۔شام کے وقت بازار مکمل طور پر بند کر دیے جاتے ہیں۔صبح نو بجے کے بعد کاروبار کھولنے کی اجازت دی جاتی ہے۔رات کے وقت سفر پر پابندی برقرار ہے۔
مقامی آبادی کے مطابق مسلسل پابندیوں اور محاصروں کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
جیونی حملے اور نوشکی میں بڑھتی عسکری سرگرمیوں کے بعد بلوچستان میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔
حکام کی جانب سے دونوں واقعات پر تفصیلی بیان کا انتظار ہے۔