بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں اتوار کی صبح نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم 4 افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب سبزی فروش اپنی دکانوں پر موجود تھے۔
زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔
واقعے کے بعد شہر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور شہریوں نے ویسٹرن بائی پاس پر دھرنا دے کر احتجاج شروع کر دیا۔
مظاہرین نے ٹریفک روک کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور ہزارہ برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری پر اس سے قبل بھی متعدد مہلک حملے ہو چکے ہیں۔ ماضی میں ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی قبول کر چکی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق ہزارہ برادری کو برسوں سے ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا سامنا رہا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان بارہا مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ انہیں مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے۔
واقعے کے بعد پولیس اور ایف سی نے علاقے کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔
تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملے کا محرک کیا تھا اور آیا اس کا تعلق ماضی کے سلسلہ وار حملوں سے ہے یا نہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔