بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پر ریاستی دباؤ کے تحت اپنے پیاروں سے اظہارِ لاتعلقی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
ضلع کیچ اورکوئٹہ کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں میں کئی خاندانوں نے پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپنے لاپتہ عزیزوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
آج بروز بدھ کو تربت آبسر کے رہائشی مولا بخش نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے بہرام اور مومن کئی ماہ قبل گھر سے نکلے تھے اور اس کے بعد سے اہلِ خانہ سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔
اسی طرح گذشتہ دنوں ضلع کیچ کے علاقے الندور کے رہائشی فقیر محمد ولد مبارک نے بھی اپنے بیٹے عدنان سے لاتعلقی کا اعلان کیاتھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کے بیٹے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائے گئے تو اس کی ذمہ داری صرف انہی پر ہوگی، خاندان ان کے کسی قول و فعل کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدنان کچھ عرصہ قبل کوئٹہ گیا تھا اور اس کے بعد سے خاندان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ فقیر محمد نے میڈیا کے ذریعے اعلان کیا کہ اگر عدنان کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اس کے اعمال کی ذمہ داری خاندان پر نہیں ہوگی۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں سیکیورٹی اداروں اور حکومتی شخصیات کی جانب سے پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپنے لاپتہ پیاروں سے لاتعلقی ظاہر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق زمین و جائیداد ضبط ہونے، سرکاری ملازمت سے برطرفی اور دیگر نتائج کی دھمکیوں کے باعث وہ اس دباؤ میں آکر لاتعلقی کے بیانات دینے پر مجبور ہیں۔
بلوچستان اسمبلی کے سابق اسپیکر وحید بلوچ نے اس عمل پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو ریاستی دباؤ میں آکر اپنے بچوں سے لاتعلقی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
ان کے مطابق حکومت کے وعدوں پر یقین کرنا خطرناک ہے کیونکہ اس طرح کے بیانات کے بعد جبری لاپتہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اسی طرح کے حلفیہ بیانات لیکر مقتولین کو دہشتگرد قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی۔
وحید بلوچ نے زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کو اپنے بچوں سے لاتعلقی کے بجائے مطالبہ کرنا چاہیے کہ جبری لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی ہو سکے۔