بلوچستان میں حالیہ دنوں میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پر ریاستی دباؤ اور زبردستی اظہارِ لاتعلقی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف خاندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں سیکیورٹی اداروں اور حکومتی شخصیات کی جانب سے پریس کانفرنسیں کرنے اور اپنے لاپتہ پیاروں سے لاتعلقی ظاہر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے کی حالیہ کارروائیوں کے بعد بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال مزید سخت ہوگئی ہے۔ اس تناظر میں،حکومت بلوچستان اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ آزادی پسندوں سے تعلق کے شبے میں خاندانوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
لواحقین کے مطابق اسی پالیسی کے تحت انہیں اجتماعی سزا کے خدشات لاحق ہیں۔
متعدد خاندانوں نے بتایا کہ وہ اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے بعد پہلے ہی ذہنی اذیت میں مبتلا تھے، تاہم اب انہیں زمین و جائیداد سے محرومی، سرکاری ملازمت سے برطرفی اور دیگر نتائج کی دھمکیوں کے باعث پریس کانفرنسوں میں اظہارِ لاتعلقی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
کوئٹہ اور تربت میں آج چار مختلف خاندانوں نے پریس کلبز میں پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے لاپتہ عزیزوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کو دوران متعدد خاندانوں نے ریاستی دبائو کے پیش نظر بلوچستان کے مخلتف علاقوں میں پریس کلبز کا رخ کرکے وہاں اپنے پیاروں سے اظہار لاتعلقی کی پریس کانفرنسز کئے تھے۔
کلی لوڑ کاریز، کوئٹہ سے تعلق والے قادر بخش نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کا 24 سالہ بیٹا بالاچ گزشتہ دس ماہ سے لاپتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کو رپورٹ کرانے کی کوشش کی لیکن شنوائی نہ ہوئی۔
قادر بخش کے مطابق اگر ان کا بیٹا کسی تنظیم میں شامل ہے تو خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
کلی بائیزئی سریاب، کوئٹہ کے رہائشی نذیر احمد شاہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا شاہ فیصل 5 دسمبر 2025 سے لاپتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ لیویز ریلوے میں ملازم ہیں اور بیٹے کی گمشدگی کے بعد مسلسل تلاش کے باوجود کوئی سراغ نہیں ملا۔
انہوں نے بھی اعلان کیا کہ اگر بیٹا کسی مسلح تنظیم سے منسلک ہے تو خاندان اس سے لاتعلق ہے۔
اسی طرح کلی سردہ سریاب، کوئٹہ کے رہائشی بشیر احمد شاہوانی اور ان کے بھائیوں نے کہا کہ ان کا چھوٹا بھائی شہزاد احمد ایک سال سے غائب ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تھانہ سریاب میں رپورٹ درج کرائی گئی لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
خاندان نے کہا کہ اگر شہزاد کا کسی تنظیم سے تعلق ہے تو وہ اس سے لاتعلق ہیں۔
تربت، ضلع کیچ کے زامران کے رہائشی اقبال بلوچ نے اپنے بیٹے اور مقامی معززین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔
ان پریس کانفرنسزکے سلسلے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو متنازع بنانے اور لواحقین پر دباؤ بڑھانے کا رجحان تشویشناک ہے۔
خاندانوں کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اپنے پیاروں کی بازیابی چاہتے ہیں، مگر ریاستی دباؤ کے باعث انہیں ایسے بیانات دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جن سے وہ ذاتی طور پر اتفاق نہیں رکھتے۔